
کراچی میں متعدد ہولناک ٹریفک حادثات کے باوجود ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بدستور قانون شکنی کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈی ایچ اے فیز 8 سے سامنے آنے والی نئی تصاویر نے عوامی غم و غصے کو ہوا دے دی ہے، جن میں تقریباً 10 سے 11 سال کا کم عمر بچہ مسافر کوچ چلاتا ہوا واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ تصاویر ایک شہری نے سولہویں اسٹریٹ، کریک وسٹا کے قریب بنائیں، جن میں کوچ نمبر PE-0147 کو کم عمر لڑکے کے زیرِ استعمال دکھایا گیا ہے۔
شہر میں اس سال صرف بسوں اور کوچز سے متعلق حادثات میں 32 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جس کے باوجود ٹرانسپورٹرز کی غفلت برقرار ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ٹرانسپورٹ مالکان کی سنگین لاپرواہی کے ساتھ ساتھ پولیس کی ناکامی کی بھی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو کوچ کا مالک اور نہ ہی کم عمر ڈرائیور، پولیس کارروائی یا ای چالان جرمانوں سے کسی قسم کا خوف رکھتا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کوچ کے مالک کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور بھاری جرمانہ عائد کیا جائے تاکہ سڑکوں پر ایسے خطرناک اقدامات کی حوصلہ شکنی ہو۔



