
تحریر جی این ایڈوکیٹ
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری اور غازیانِ گلگت بلتستان کا استحصال
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
کم از کم اجرت کا اہتمام کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب محنت کش کو اپنی محنت کے عوض اتنی اجرت نہ ملے کہ وہ اور اس کا خاندان باعزت زندگی گزار سکیں تو یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، عدل اور مساوات کے اصولوں کی نفی ہے۔ کم از کم اجرت نہ ہونے یا اس پر عملدرآمد نہ ہونے سے محنت کش طبقہ محرومی، غربت اور ناانصافی کے دائرے میں قید ہو جاتا ہے۔
ان کے بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات متاثر ہوتی ہیں، اور یوں پورا معاشرہ معاشی ناہمواری اور سماجی اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے قانون کے ذریعے مقرر کردہ کم از کم اجرت کا نفاذ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ ہر شہری کو اس کی محنت کا جائز صلہ ملے اور ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل پا سکے۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
گلگت بلتستان میں اس وقت سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہے جس نے اپنی جوانیاں وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے وقف کیں غازیانِ گلگت بلتستان۔ یہ وہ سپوت ہیں جنہوں نے برف پوش سیاچن کے مورچوں، کارگل کی وادیوں، بلوچستان کے ریگزاروں اور دہشت گردی کے خلاف محاذوں پر اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر وطن کی سلامتی کو یقینی بنایا۔ مگر افسوس کہ جب یہی غازی ریٹائر ہو کر واپس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں تو ان کے استقبال میں قوم کی طرف سے اعزاز نہیں، بلکہ معاشی تنگی اور سماجی بے حسی ملتی ہے۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
وہ اپنی مختصر پنشن سے بمشکل گزر بسر کرتے ہیں، اپنی جمع پونجی بچوں کی شادیوں یا چھوٹے گھروں کی تعمیر میں خرچ کر دیتے ہیں، اور پھر مجبوری میں دوبارہ محنت کش بن کر زندگی کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر سیکیورٹی کمپنیوں میں بطور گارڈ کام کرتے ہیں، مگر یہاں ان کے ساتھ وہ ناانصافی روا رکھی جاتی ہے جو قانون اور انصاف دونوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔
گلگت بلتستان حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق Gilgit-Baltistan Minimum Wages Act 2019 کے تحت. سال 2025-26 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40,000 روپے مقرر کی جا چکی ہے، اور روزانہ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی ٹائم مقرر کیا گیا ہے اس سے زائد ڈیوٹی پر Overtime دینے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بیشتر سیکیورٹی کمپنیاں ان غازیوں سے 12، 16 بلکہ بعض اوقات 24 گھنٹے تک ڈیوٹی کرواتی ہیں، وہ بھی انتہائی معمولی تنخواہ پر۔ نہ انہیں آرام کا وقت ملتا ہے، نہ اوورٹائم کی ادائیگی، نہ کسی قانونی تحفظ کا سہارا۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
یہ وہ ظلم ہے جس کے نیچے غازیانِ گلگت بلتستان پس رہے ہیں. وہی لوگ جن کی قربانیوں سے یہ وطن محفوظ ہے، آج معاشی استحصال کی چکی میں پِس کر زندہ ہیں۔ یہ ظلم صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی المیہ بھی ہے۔ قانون کی رو سے، Gilgit-Baltistan Minimum Wages Act 2019 کے سیکشن 8 (3) کے تحت جو آجر کم از کم اجرت ادا نہیں کرتا یا مزدور سے غیر قانونی طور پر زیادہ اوقات کام لیتا ہے، وہ جرم کا مرتکب ہے اور اسے قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
لیکن افسوس کہ قانون موجود ہے، مگر عملدرآمد کا نام و نشان نہیں۔ یہی وہ خلا ہے جس نے ان طاقتور کمپنیوں کو غریب اور مجبور محنت کشوں پر ظلم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
پاکستان، بین الاقوامی ادارہ برائے محنت (ILO) کا رکن ہونے کے ناتے، مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے کئی بین الاقوامی کنونشنز پر دستخط کر چکا ہے جیسے ILO کنونشن نمبر 131 جو منصفانہ اجرت کے نظام پر زور دیتا ہے، اور کنونشن نمبر 1 جو روزانہ آٹھ گھنٹے کام کے اصول کو لازمی قرار دیتا ہے۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
اسی طرح انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (Universal Declaration of Human Rights) کے آرٹیکل 23 میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو ایسی اجرت کا حق حاصل ہے جو اسے اور اس کے خاندان کو باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔ مگر گلگت بلتستان میں ان اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے، اور سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہے جس نے اس ملک کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگائیں۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
ریاست کی ذمہ داری صرف قانون بنانے تک محدود نہیں بلکہ ان قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا بھی اسی کی اولین ذمہ داری ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 37 (الف) میں واضح طور پر درج ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی معاشی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے اور انصاف، مساوات اور وقارِ انسانی کے اصولوں پر مبنی نظام قائم کرے۔ اگر وہ غازی، جنہوں نے اپنی زندگیاں اس ریاست کے دفاع میں صرف کیں،
آج انصاف کے لیے در بدر ہیں تو یہ ریاست کی اخلاقی اور آئینی ناکامی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست، حکومت اور مقتدر ادارے محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان، ہوم سیکرٹری، سیکرٹری لیبر اینڈ انڈسٹری اور دیگر متعلقہ حکام سے مؤدبانہ مگر دوٹوک اپیل ہے کہ وہ فوراً نوٹس لیں۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
ان سیکیورٹی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو کم از کم اجرت کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں، بھاری مالی جرمانے عائد کیے جائیں، اور جو مالکان مسلسل مزدوروں کا استحصال کر رہے ہیں انہیں جیل بھیجا جائے۔ ساتھ ہی ان کمپنیوں کو گلگت بلتستان سے مکمل طور پر بدر کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی آجر قانون کو روندنے کی جرات نہ کرے۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری
غازیانِ گلگت بلتستان کا استحصال صرف مزدوروں کا نہیں بلکہ پاکستان کے ان ہیروز کی بے قدری ہے جنہوں نے اپنی جوانیاں وطن کے نام کیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی قربانیوں کا صلہ انہیں عزت و وقار کی شکل میں دیا جائے۔ ریاست اگر واقعی اپنے محسنوں کی قدر کرتی ہے تو کم از کم اجرت کے قانون کو محض ایک کاغذ نہیں بلکہ انصاف کا عملی ثبوت بنائے کیونکہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد صرف قانونی نہیں، بلکہ ریاست کی وقار اور ضمیر کا امتحان ہے۔
جی ایم ایڈوکیٹ
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری




