
تحریر: راجہ عبید الرحمن جنجوعہ 🇵🇰
گلگت بلتستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ یہاں کے نوجوان ہمیشہ سے امن، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے علمبردار رہے ہیں، وقت کے بدلتے تقاضوں کے باوجود نوجوانوں نے نہ صرف اپنے جوش، جذبے اور وژن سے خطے کا نام روشن کیا بلکہ ہر دور میں ایسے اقدامات کیے جنہوں نے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھی، ماضی سے آج تک یہ تسلسل قائم ہے کہ گلگت بلتستان کے نوجوان کسی بھی چیلنج یا بحران میں سب سے پہلے میدان میں نظر آتے ہیں، چاہے وہ بین الضلعی ہم آہنگی کا معاملہ ہو، رضاکارانہ سرگرمیاں ہوں، سماجی تنازعات کے حل کی کوششیں ہوں یا امن و بھائی چارے کے لیے مشترکہ فورمز کی تشکیل،
ان نوجوانوں کے ساتھ ساتھ جنرلزم کی نئی نسل بھی خطے میں امن اور استحکام کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہے، یہ وہ افراد ہیں جو بیک وقت کئی شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں،
سوشل ایکٹیوزم، صحافت، کمیونٹی مینجمنٹ، پالیسی ریسرچ، اور ڈیجیٹل وکالت اور انہی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے مسائل کو اجاگر بھی کرتے ہیں اور ان کے حل کی راہیں بھی متعین کرتے ہیں،
یہ جدید دور کے وہ فعال شہری ہیں جنہوں نے نہ صرف گلگت بلتستان کی ترقیاتی بحث کو آگے بڑھایا بلکہ خطے کی روشنی کو بین الاقوامی سطح تک بھی منتقل کیا،
اس سارے سفر میں ہمارے سکیورٹی اداروں کا کردار بھی ہمیشہ بنیادی رہا ہے، خطے کی حساس جغرافیائی اہمیت، دشوار گزار علاقے اور موسمی چیلنجز کے باوجود سکیورٹی فورسز نے امن کے قیام کے لیے انتھک محنت اور پیشہ ورانہ مہارت سے کام کیا ہے، چاہے قدرتی آفات ہوں، سماجی خلفشار یا بیرونی خطرات فورسز نے ہمیشہ ذمہ داری اور عزم کے ساتھ خطے کے عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا، نوجوانوں اور سکیورٹی اداروں کے درمیان موجود اعتماد کی یہ مضبوط بنیاد ہی گلگت بلتستان کے پائیدار امن کی حقیقت ہے،
آج جب گلگت بلتستان سیاسی اعتبار سے ایک نئے دور کے دروازے پر کھڑا ہے، عبوری حکومت کی تشکیل ایک نہایت اہم مرحلہ بن چکی ہے، ایسے وقت میں نوجوانوں کو فیصلہ سازی کا حصہ بنانا محض ایک تجویز نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ نوجوان اس خطے کا مستقبل ہی نہیں بلکہ اس کے موجودہ حالات کے بھی اہم ترین فہم رکھنے والے لوگ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کس فورم پر کیا مسائل ہیں، کن چیلنجز نے معاشرے کو متاثر کیا ہے، اور آج کے تقاضوں کے ساتھ مطابقت رکھنے والی پالیسیاں کیا ہونی چاہئیں،
تمام اضلاع کے نوجوان گلگت، سکردو، غذر، ہنزہ، نگر، استور، دیامر اور گانچھے اپنی اپنی صلاحیتوں، سوچ اور تجربے میں منفرد ہیں، عبوری حکومت میں اگر ان تمام علاقوں کے نوجوانوں کو نمائندگی دی جائے تو نہ صرف فیصلہ سازی میں توازن پیدا ہوگا بلکہ نوجوان یہ محسوس کریں گے کہ وہ واقعی اس خطے کے ستون ہیں، جن پر مستقبل کی عمارت تعمیر ہونی ہے،
نوجوان نئے خیالات، مثبت توانائی اور تخلیقی سوچ کے ذریعے نہ صرف سیاسی ماحول کو تازہ دم کر سکتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔ وہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل گورننس، موسمیاتی مسائل اور سماجی ترقی کے موضوعات پر زیادہ واقفیت رکھتے ہیں، اس لیے ان کا کردار پالیسی سازی میں نئی جہتیں متعارف کرا سکتا ہے،
وقت کی ضرورت یہی ہے کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو نہ صرف سراہا جائے بلکہ انہیں اصل معنوں میں بااختیار بنایا جائے،امن، ترقی، گورننس اور سماجی ہم آہنگی کے اس سفر میں نوجوان پہلے بھی سب سے آگے تھے، آج بھی آگے ہیں، اور مستقبل میں بھی یہی اس خطے کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے۔ عبوری حکومت میں ان کی شمولیت دراصل گلگت بلتستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے
ایک ایسا مستقبل جہاں امن بھی ہو، ترقی بھی اور فیصلہ سازی میں نسلِ نو کا مضبوط کردار بھی۔




