2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ

2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے بنگلہ دیش کے میچز مقررہ مقامات پر منعقد نہیں ہو پاتے تو پاکستان 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے میچز کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ذرائع کے مطابق، پی سی بی نے اس حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ اگر سری لنکا متبادل میزبان کے طور پر دستیاب نہ ہوا تو پاکستان بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز کی میزبانی کی ذمہ داری سنبھالنے پر آمادہ ہے۔ پی سی بی حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے اسٹیڈیمز، سیکیورٹی انتظامات اور انتظامی ڈھانچہ کسی بھی وقت بڑے بین الاقوامی میچز کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان مختصر نوٹس پر بھی بین الاقوامی سطح کے میچز کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پی سی بی حکام کا ماننا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے کئی بڑے عالمی ایونٹس کی کامیاب میزبانی کر کے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے، جس کی وجہ سے وہ 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کے لیے ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھرا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان میں حال ہی میں منعقد ہونے والے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025، آئی سی سی ویمنز کوالیفائر اور دیگر بین الاقوامی سیریز اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے کرکٹ وینیوز عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں۔ سیکیورٹی، لاجسٹکس، براڈکاسٹنگ اور ٹیموں کی میزبانی کے تمام انتظامات بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کا مؤقف اس ماہ کے آغاز میں مزید سخت ہو گیا جب اس نے بھارت میں اپنے مقررہ ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار کر دیا۔ بی سی بی نے اس فیصلے کی وجہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اور مجموعی تحفظات کو قرار دیا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو اچانک انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے باہر کر دیا گیا، جس کے بعد بنگلہ دیش میں کھلاڑیوں کے ساتھ سلوک اور موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں ان کی حفاظت پر شدید بحث شروع ہو گئی۔
بنگلہ دیش کے یوتھ اینڈ اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرالاسلام نے اس فیصلے کی سرکاری طور پر تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش ٹیم بھارت جا کر 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز نہیں کھیلے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بی سی بی نے مستفیض الرحمٰن کے آئی پی ایل سے غیر متوقع اخراج پر وضاحت طلب کی ہے۔
آصف نذرالاسلام کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کسی ایسی صورتحال کو قبول نہیں کرے گا جو بنگلہ دیشی کرکٹ کی عزت و وقار کو مجروح کرے یا کھلاڑیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔
مستفیض الرحمٰن کے آئی پی ایل سے اخراج کے بعد بی سی بی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں آئی سی سی سے باضابطہ طور پر درخواست کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز کسی اور ملک منتقل کیے جائیں۔ اس موقع پر سری لنکا کو اولین ترجیحی متبادل کے طور پر تجویز کیا گیا۔ بی سی بی کے صدر امین الاسلام بلبل نے بھی واضح کیا کہ کھلاڑیوں کی سیکیورٹی بورڈ کی اولین ترجیح ہے۔
تاحال انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا کہ آیا بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے منتقل کیے جائیں گے یا شیڈول کے مطابق وہیں منعقد ہوں گے۔ تاہم، پاکستان کی پیشکش نے 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے ایک نیا اور سنجیدہ آپشن ضرور فراہم کر دیا ہے۔



