

پاکستان کے بجلی کے نگران ادارے نیپرا نے سندھ میں اہم ٹرانسمیشن سائٹس پر حفاظتی معیار، عملے کی کمی اور آپریشنل تیاریوں میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہونے پر سرکاری نیشنل گرڈ کمپنی پر 1 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ حکم نامہ جمعرات کو جاری کیا گیا۔
نیپرا کے مطابق یہ جرمانہ 41 ماہ کی طویل تحقیقات کے بعد تین کے مقابلے میں ایک کی اکثریت سے منظور کیا گیا، جس دوران معائنہ، شوکاز نوٹس اور متعدد سماعتیں شامل تھیں۔
تحقیقات کا مرکز جھمپیر (حیدرآباد) کا علاقہ تھا، جہاں گرڈ نیٹ ورک میں صحت، حفاظت اور ماحول (HSE) کے معیار بہتر بنانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی منظوری دی گئی تھی۔
مئی 2022 میں کی گئی نیپرا ٹیم کی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ علاقے کے 220/132 کے وی گرڈ اسٹیشن ابھی تک تعمیر کے مراحل میں تھے، لیکن باقاعدہ ہینڈ اوور کے بغیر ہی انہیں فعال کر دیا گیا تھا—جو طریقہ کار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مزید یہ کہ نئی ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ اسٹیشنز کے کنٹرول سنبھالنے کے لیے کوئی منظور شدہ SOP موجود ہی نہیں تھی۔
نیپرا نے عملے کی شدید کمی کی بھی نشاندہی کی۔ معائنے کے وقت صرف دو شفٹ انجینئر موجود تھے جو مسلسل دو دن کی طویل ڈیوٹی کر رہے تھے، بغیر مناسب آرام یا معاون عملے کے۔ اسی طرح جنوبی ریجن میں بھی کئی سالوں سے منظور شدہ آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، حالانکہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق افرادی قوت، گاڑیوں، حفاظتی آلات اور بنیادی سہولیات—جیسے پانی، گیس اور مناسب رہائش—کی عدم دستیابی کے باعث نئے گرڈ اسٹیشن اور تنصیبات “غیر محفوظ، لاوارث اور خطرے سے دوچار” رہیں، جس سے پورا ٹرانسمیشن نظام غیر مستحکم ہوتا ہے۔



