

اسلام آباد: وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی، ایس ایم ای اصلاحات اور ذمہ دار ڈیجیٹل فنانس کو فروغ دینے کے اپنے عزم پر قائم ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی اب ملک کے لیے ایک سنگین معاشی حقیقت بن چکی ہے۔
وزیرِ خزانہ
اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران، جس کی قیادت انٹرنیشنل فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (IFAC) کے صدر ژاں بوکوٹ کر رہے تھے، وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت گرین ٹیکسونومی، پائیدار مالیاتی انکشافات اور موسمیاتی لائحہ عمل کے مطابق مالیاتی ڈھانچے کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے تاکہ اقتصادی استحکام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب سے جی ڈی پی میں تقریباً آدھے فیصد کی کمی کا خدشہ ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ گرین فنانس اور موسمیاتی لچک کو پالیسی سازی میں بنیادی حیثیت دینا کیوں ضروری ہے۔
ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں اصلاحات
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے ورچوئل اور کرپٹو اثاثوں کے لیے سخت ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دے دیا ہے۔ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور نیا کریپٹو کونسل لائسنسنگ، KYC اور AML تقاضوں پر مبنی باقاعدہ نظام متعارف کرا رہے ہیں۔
ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل جدت کو محفوظ اور شفاف طریقے سے باضابطہ معیشت میں شامل کیا جائے اور صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
ایس ایم ایز کے لیے جدید مالیاتی نظام کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ صنعتی اور برآمدی شعبوں سے وابستہ بہت سے چھوٹے اور درمیانے کاروبار اپنے مالیاتی ریکارڈ کو جدید بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، لہٰذا ادارہ جاتی تعاون ضروری ہے تاکہ وہ دستاویزی اور معیاری نظام کی طرف منتقل ہو سکیں۔
آئی ایف اے سی کے عالمی ترجیحات پر بریفنگ
IFAC کے صدر ژاں بوکوٹ نے وزیر کو عالمی اکاؤنٹنگ ترجیحات سے آگاہ کیا، جن میں:
- پائیدار مالیاتی رپورٹنگ
- آڈٹ اخلاقیات
- اکاؤنٹنگ پیشے میں مصنوعی ذہانت کا کردار
- پبلک سیکٹر کی مالیاتی اصلاحات
انہوں نے بتایا کہ غیر مالیاتی آڈٹ اور شفاف رپورٹنگ کی عالمی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے لیے جدید تربیت اور مضبوط نگرانی ناگزیر ہے۔
پاکستان کے مختلف اداروں کی پیش رفت
- آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقبول احمد گوندل نے بتایا کہ حکومت نقد بیس سے اکروئل بیس آئی پی ایس اے ایس نظام کی طرف منتقل ہو رہی ہے اور موجودہ مالی سال میں مکمل ڈیجیٹل ادائیگیوں اور وصولیوں کا آغاز ہو جائے گا۔
- چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید نے IOSCO سے ریگولیٹری ہم آہنگی، انشورنس و پنشن اصلاحات اور لسٹڈ و نان لسٹڈ کمپنیوں کے لیے پائیدار انکشافات کے مرحلہ وار نفاذ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے IFRS کے مکمل نفاذ کی بھی تصدیق کی۔
- SAFA اور ICMAP کے نمائندوں نے علاقائی تعاون، مالیاتی تربیت میں AI کے استعمال اور پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کیا۔



