

اسلام آباد کے نilor–خانہ پل روٹ پر چلنے والی ایک گرین الیکٹرک بس پر اس وقت حملہ کیا گیا جب نامعلوم افراد نے بس پر پتھر برسائے، جس سے اس کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ اچانک حملے سے مسافروں میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور بس کچھ دیر کے لیے رک گئی۔
چیئرمین سی ڈی اے کا نوٹس
چیئرمین سی ڈی اے چوہدری محمد علی رندھاوا نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری انکوائری کرنے کی ہدایت جاری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی محفوظ سفری سہولت میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور گرین اربن ٹرانسپورٹ منصوبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مقامی ٹرانسپورٹروں کی مزاحمت کا شائبہ
سی ڈی اے ذرائع کے مطابق، ابتدائی اندازوں سے لگتا ہے کہ یہ واقعہ ان عناصر کی ناراضی کا نتیجہ ہو سکتا ہے جو گرین الیکٹرک بس سروس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوش نہیں۔ اہلکاروں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی مختلف روٹس پر ایسے حملے کیے جا چکے ہیں جن کا مقصد جدید ٹرانسپورٹ نظام کو سبوتاژ کرنا ہے۔
پولیس کو کارروائی کی ہدایت
واقعے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملوث افراد کی نشاندہی اور گرفتاری میں تاخیر نہ کی جائے تاکہ عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر نہ ہو۔
آپریٹنگ کمپنی کا ردعمل
الیکٹرک بس سروس چلانے والی کمپنی نے تصدیق کی کہ ان کی گاڑیوں پر اس نوعیت کا یہ پہلا حملہ نہیں۔ کمپنی نے نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سفر کے دوران سیکیورٹی مزید بہتر بنائی جائے تاکہ شہری بلا خوف و خطر سروس کا استعمال کر سکیں۔



