

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی مالی شمولیت ایک ریکارڈ 52 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 2018 میں صرف 4 فیصد تھی۔ یہ پیشرفت بینکنگ شعبے کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جس سے صنفی فرق 47 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد رہ گیا ہے۔
خواتین
وہ پاکستان ویمن انٹرپرینیورشپ ڈے (PWED) 2025 کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔
خواتین
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 2021 سے اب تک 1 کروڑ 76 لاکھ سے زائد خواتین کے نئے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، جو خواتین کی مالی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی علامت ہے۔
خواتین
خواتین کاروباریوں کو 230 ارب روپے کے قرضے
جمیل احمد نے بتایا کہ نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران خواتین کی زیرِ قیادت کاروباروں کو 9,74,000 قرضے جاری کیے گئے، جن کی مالیت 230.3 ارب روپے رہی۔
بینکوں میں خواتین ملازمین کی تعداد بڑھ کر 17 فیصد
خواتین
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران بینکنگ سیکٹر میں 14,600 سے زائد خواتین بھرتی کی گئیں، جس سے بینکنگ اسٹاف میں خواتین کا مجموعی حصہ 13 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد ہوگیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی پالیسی اقدامات
گورنر نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے خواتین کی مالی شمولیت کے لیے ایک جامع اور کثیر جہتی حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس میں شامل ہیں:
- خواتین کاروباریوں کے لیے فنانس، مارکیٹس اور مینٹورشپ تک رسائی
- 22 بینکوں کے ساتھ شراکت داری
- پالیسی پر عمل درآمد کے لیے قیادت کی تقرری
- ڈیٹا شیئرنگ اور نئی اسکیموں کا آغاز
300 آگاہی و تربیتی پروگرام
2025 میں شراکت دار اداروں کے تعاون سے 55 اضلاع میں 300 سے زائد تربیتی و آگاہی پروگرامز منعقد کیے گئے جن میں 45,000 خواتین نے حصہ لیا۔
ویمن انٹرپرینیورز فنانس کوڈ میں پاکستان کی شمولیت
گورنر نے بتایا کہ:
“اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں ‘ایمرجنگ ویمن لیڈرز انیشی ایٹو’ کے تحت نوجوان خواتین کی ایک نئی بیچ بھرتی کی ہے، اور SBP کے بورڈ میں بھی ایک خاتون رکن شامل ہو چکی ہیں۔ پاکستان رواں سال فروری میں Women Entrepreneurs Finance Code کا عالمی دستخط کنندہ بنا۔”
PWED 2025— ایک قومی جشن
یہ تقریب اسٹیٹ بینک کراچی اور ملک بھر کے 16 فیلڈ دفاتر میں بیک وقت منعقد ہوئی۔ اس میں:
- پالیسی ساز
- بینکنگ ادارے
- ڈویلپمنٹ پارٹنرز
- بزنس لیڈرز
- نمایاں خواتین کاروباری
نے شرکت کی۔



