
پاکستان کے بینکاری شعبے کو اس وقت ایک سنگین بحران کا سامنا ہے، جہاں بُرے قرضوں میں تشویشناک اضافہ اور کمزور ریکوری نظام نے کریڈٹ کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں بینکنگ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کا نان پرفارمنگ لون این پی ایل ریٹ 7.4 فیصد تک جا چکا ہے، جو امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
ملک کے 13 بڑے بینکوں کے بُرے قرضوں کا مجموعی حجم 622 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ سرکاری بینک سب سے زیادہ دباؤ میں ہیں۔
ریکوری نظام ناکارہ، مقدمات برسوں لٹکے رہتے ہیں
بینکنگ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ریکوری فریم ورک عملی طور پر ’پھنس‘ چکا ہے۔ بینک قرض واپس لینے کے قانونی حق رکھنے کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کر پاتے۔ بڑے مسائل میں شامل ہیں:
- عدالتوں میں طویل اسٹے آرڈرز
- گمشدہ، متنازع یا ناقابلِ رسائی کولیٹرل
- پولیس کی جانب سے ریکوری کارروائی میں عدم تعاون
- واضح عدالتی فیصلوں کے باوجود عملدرآمد میں کئی سال لگ جانا
نتیجے میں بینکوں کے بُرے قرضے بڑھتے جا رہے ہیں اور نئے قرض دینے میں بے حد احتیاط برتی جا رہی ہے۔
نجی شعبے کے لیے قرضے سکڑنے لگے
ریکوری کے کمزور نظام کے باعث بینک اب اپنی سرمایہ کاری کو نجی شعبے کے بجائے حکومت کی طرف منتقل کر رہے ہیں، جس سے ملکی معیشت کے اہم شعبے متاثر ہو رہے ہیں، جیسے:
- چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)
- کسان
- صارفین
- ہاؤسنگ اور مارگیج فنانسنگ
مارگیج سیکٹر تو تقریباً ’’جمود‘‘ کا شکار ہے، کیوں کہ بینکوں کو خدشہ ہے کہ ڈیفالٹ کی صورت میں جائیداد واپس لینا ممکن نہ ہوگا۔
سری لنکا کا ماڈل — پاکستان کے لیے حل؟
معاشی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ پاکستان کو سری لنکا کے نان جوڈیشل ریکوری ماڈل سے سیکھنا چاہیے، جس کے تحت بینک بغیر طویل عدالتی کارروائی کے کولیٹرل نیلام کر سکتے ہیں۔
اگر ایسا نظام یہاں بھی نافذ کیا جائے تو:
- ریکوری تیز ہو سکتی ہے
- بینکنگ سیکٹر کا دباؤ کم ہوگا
- نجی شعبے کو دوبارہ قرض ملنا شروع ہو جائے گا
- سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے
خطرناک معاشی نتائج کا خدشہ
اگر پاکستان نے ریکوری نظام میں اصلاحات نہ کیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق:
- کریڈٹ مزید کم ہوتا جائے گا
- کاروباری سرمایہ کاری کمزور پڑے گی
- معیشت کی رفتار مزید سست ہو جائے گی
- بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے
بہتر ریکوری فریم ورک کے بغیر بینکنگ سیکٹر اور ملکی ترقی دونوں شدید نقصان کا شکار رہیں گے۔



