EU agree €90bn loan for Ukraine but without using Russian assets
یورپیروسی اثاثوں کو استعمال کیے بغیر دی جائے گی۔ یہ فیصلہ برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں ایک دن سے زائد طویل مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر لکھا:
“ہم نے عزم کیا، اور ہم نے اسے پورا کر دکھایا۔”
انہوں نے بتایا کہ یہ قرض یورپی یونین کے مشترکہ بجٹ کی ضمانت کے تحت دیا جائے گا اور اس سے آئندہ دو برسوں تک یوکرین کی فوجی اور معاشی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔
اس سے قبل یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے مطالبہ کیا تھا کہ 200 ارب یورو کے منجمد روسی اثاثے یوکرین کے لیے استعمال کیے جائیں۔ تاہم بیلجیم، جہاں ان اثاثوں کی بڑی مقدار موجود ہے، نے ذمہ داری کی مشترکہ تقسیم پر ضمانتوں کا مطالبہ کیا، جس پر دیگر ممالک متفق نہ ہو سکے۔
ادھر ایک اور اہم پیش رفت میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ ان کے خیال میں یورپ کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے دوبارہ رابطہ قائم کرنا “مفید” ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا:
“میرے خیال میں یورپی اور یوکرینی مفاد میں ہے کہ ہم اس گفتگو کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک مناسب فریم ورک تلاش کریں۔”
میکرون کے مطابق آنے والے ہفتوں میں اس حوالے سے عملی اقدامات کیے جانے چاہییں۔
بیلجیم کے وزیرِ اعظم بارٹ ڈی ویور نے کہا کہ روسی اثاثے استعمال کرنے کے بجائے قرض دینے کے فیصلے سے یورپی یونین نے “افراتفری اور تقسیم” سے بچاؤ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:
“ہم متحد رہے۔”
یوکرین کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر بہار تک مالی امداد نہ ملی تو یوکرین کو ڈرونز کی پیداوار کم کرنا پڑے گی۔ یورپی یونین کے اندازے کے مطابق یوکرین کو آئندہ دو برسوں میں اپنے نظام کو چلانے کے لیے اضافی 135 ارب یورو درکار ہوں گے، جبکہ مالی دباؤ اپریل سے شروع ہو سکتا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرِش میرز، جو روسی اثاثوں کے استعمال کے حامی تھے، نے کہا کہ قرض کا حتمی فیصلہ پیوٹن کے لیے “واضح پیغام” ہے۔ روس پہلے ہی یورپی یونین کو خبردار کر چکا تھا کہ اس کے اثاثے استعمال نہ کیے جائیں، تاہم پولینڈ کے وزیرِ اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ یورپی رہنماؤں کو “اس موقع پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا”۔
یہ معاہدہ یوکرین کے لیے ایک نہایت اہم سہارا ثابت ہو رہا ہے، ایسے وقت میں جب سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس-یوکرین جنگ کے جلد خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اسی تناظر میں امریکی اور روسی حکام کے درمیان اس ہفتے کے آخر میں میامی میں امن منصوبے پر مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق کریملن کے نمائندے کریل دمترییف، ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے۔
دوسری جانب صدر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اور امریکا کے وفود کے درمیان جمعہ اور ہفتہ کو امریکا میں مزید بات چیت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ واشنگٹن سے اس بارے میں مزید تفصیلات چاہتے ہیں کہ امریکا یوکرین کو مستقبل میں کسی بھی نئی جارحیت سے بچانے کے لیے کیا ضمانتیں فراہم کر سکتا ہے۔



