ڈیوڈ وارنر جونی بیئرسٹو PSL بیان
ڈیوڈ وارنر جونی بیئرسٹو PSL بیان

انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے پانچویں ایشز ٹیسٹ کے دوران کمنٹری باکس سے سامنے آنے والا ایک مختصر مگر اہم جملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جس میں آسٹریلوی اسٹار کرکٹر ڈیوڈ وارنر نے انگلینڈ کے وکٹ کیپر بلے باز جونی بیئرسٹو سے متعلق ایک دلچسپ انکشاف کیا۔ وارنر کے مطابق جونی بیئرسٹو پاکستان سپر لیگ (PSL) نہ کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر ناخوش تھے، جبکہ انہیں انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کھیلنے کی اجازت حاصل تھی۔
ڈیوڈ وارنر نے بتایا کہ جونی بیئرسٹو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کی پالیسی سے مایوس تھے، کیونکہ اس پالیسی کے تحت انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو IPL کھیلنے کی اجازت تو دی جاتی ہے، مگر PSL میں شرکت کی اجازت نہیں ملتی۔ ڈیوڈ وارنر جونی بیئرسٹو PSL بیان نے ایک بار پھر عالمی کرکٹ میں فرنچائز لیگز کے حوالے سے دوہرے معیار کی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔
یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب کمنٹری پینل میں مائیکل وان، ایڈم گلکرسٹ اور ڈیوڈ وارنر موجود تھے۔ دورانِ گفتگو یہ موضوع زیر بحث آیا کہ کس طرح IPL کا شیڈول اور اس کی سخت وابستگیاں کھلاڑیوں کو بین الاقوامی اور ڈومیسٹک کرکٹ سے دور کر دیتی ہیں۔ مائیکل وان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ IPL سے معاہدہ کرنے والے انگلینڈ کے کھلاڑی اکثر پورا ٹورنامنٹ کھیلنے کے پابند ہوتے ہیں، جس کے باعث قومی سلیکٹرز کے پاس متبادل اختیارات محدود ہو جاتے ہیں۔
ڈیوڈ وارنر جونی بیئرسٹو PSL بیان
ایڈم گلکرسٹ نے اس موقع پر مائیکل وان سے وضاحت طلب کی کہ آیا ECB اور بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کے درمیان کوئی خاص معاہدہ موجود ہے۔ اس پر وان نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق IPL فرنچائزز کے ساتھ معاہدہ کرنے والے کھلاڑیوں کو مکمل سیزن کے لیے دستیاب رہنا لازمی ہوتا ہے، اور یہی شرط ٹورنامنٹ اور فرنچائزز کی جانب سے عائد کی جاتی ہے۔
ڈیوڈ وارنر نے اس بحث میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ سسٹمز IPL کے معاملے میں کافی حد تک ایک جیسے ہیں، جہاں کھلاڑیوں کو جلدی ریلیز کرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انگلینڈ میں کاؤنٹی سیزن کے دوران کھلاڑیوں کو محدود تعداد میں ہی فرنچائز لیگز کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
سب سے زیادہ توجہ اس وقت حاصل ہوئی جب وارنر نے کہا کہ انہیں یاد ہے جونی بیئرسٹو اس بات پر خاصے ناخوش تھے کہ انگلینڈ کے کھلاڑی IPL تو کھیل سکتے ہیں، مگر PSL میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ڈیوڈ وارنر جونی بیئرسٹو PSL بیان کو کرکٹ شائقین نے فرنچائز کرکٹ میں عدم توازن کی واضح مثال قرار دیا۔
گفتگو کے دوران مختلف کرکٹ بورڈز کی فرنچائز پالیسیز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وارنر نے بتایا کہ آسٹریلیا میں ابتدا میں ایک ریونیو شیئر ماڈل اپنایا گیا تھا، جس کے تحت کھلاڑی مکمل رقم وصول کرتے تھے جبکہ کرکٹ آسٹریلیا 10 فیصد حصہ لیتا تھا۔ اس ماڈل کا مقصد آسٹریلوی کھلاڑیوں کو IPL کھیلنے پر آمادہ کرنا تھا۔
وارنر کے مطابق یہی پالیسیاں بعد میں بڑی لیگز کو عالمی سطح پر طاقتور بنانے میں مددگار ثابت ہوئیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بھی پیدا ہوا کہ جب IPL اور ڈومیسٹک یا بین الاقوامی کرکٹ کے شیڈول ٹکراتے ہیں تو تنازع جنم لیتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کی شیفیلڈ شیلڈ کے فائنلز اپریل کے آخر تک چلتے ہیں، جو IPL سے ٹکرا جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ریاستی ٹیمیں اپنے بہترین کھلاڑیوں کے بغیر اہم میچز کھیلنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
یہ تمام صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فرنچائز کرکٹ، خصوصاً IPL، نے عالمی کرکٹ کے نظام کو کس حد تک متاثر کیا ہے، اور ڈیوڈ وارنر جونی بیئرسٹو PSL بیان اسی بحث کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔
مزید کرکٹ خبروں، تازہ ترین اپڈیٹس اور تفصیلی تجزیوں کے لیے ہماری ویب سائٹ کو فالو کرتے رہیں۔
تازہ ترین خبروں کو ہماری ویب سائیڈ کا وزیڈ کریں پی ٹی این



