سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز

سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز
سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز: فیصل آباد اور راولپنڈی پر سبقت کیوں ملی
پاکستان سپر لیگ میں شامل ہونے والی نئی فرنچائزز نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ خاص طور پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز اور حیدرآباد کو منتخب کرتے وقت فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے اور مقبول شہروں کو کیوں نظرانداز کیا گیا۔ یہ بحث 8 جنوری کو ہونے والی پی ایس ایل ٹیموں کی نیلامی کے بعد مزید تیز ہو گئی، جہاں کئی شائقین اور ماہرین نے فیصل آباد کو مضبوط امیدوار قرار دیا تھا۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سیالکوٹ کے شریک مالک کامل خان نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ فرنچائزز کے انتخاب کو محض آبادی یا شائقین کی تعداد کے بجائے انفراسٹرکچر، معاشی صلاحیت اور اسپورٹس ورثے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز کئی ایسے منفرد فوائد رکھتی ہے جو اسے دیگر شہروں پر برتری دیتے ہیں۔
جب ان سے براہِ راست سوال کیا گیا کہ “سیالکوٹ کو کیوں منتخب کیا گیا اور فیصل آباد کو کیوں نہیں؟” تو کامل خان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق سیالکوٹ کے پاس اپنا ہوائی اڈہ ہے، ڈرائی پورٹ موجود ہے، اور یہ شہر عالمی تجارت میں ایک مضبوط مقام رکھتا ہے۔
کامل خان نے مزید کہا کہ سیالکوٹ کا اسپورٹس سے تعلق پاکستان بننے سے بھی پہلے کا ہے۔ “سیالکوٹ کھیلوں کے سامان کی تیاری میں دنیا بھر میں مشہور رہا ہے۔ یہاں بننے والی فٹبالز، ہاکی اسٹکس اور دیگر اسپورٹس آئٹمز عالمی مقابلوں کا حصہ رہی ہیں، اس لیے یہ شہر ایک اسپورٹس ٹیم کا مکمل حق رکھتا ہے،” انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق یہی تاریخی اور معاشی بنیاد سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز کو ایک مضبوط انتخاب بناتی ہے۔
سیالکوٹ کے حق میں ایک اور مضبوط دلیل اس شہر کی ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار تاریخ ہے۔ ماضی میں سیالکوٹ اسٹالینز نے پاکستان کی ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ ٹیم مسلسل جیتنے کی شہرت رکھتی تھی اور قومی سطح پر ایک مضبوط برانڈ بن چکی تھی۔ کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہی کامیاب ورثہ نئی سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
کامل خان نے انکشاف کیا کہ فرنچائز اونرشپ گروپ نیلامی میں مکمل تیاری اور واضح منصوبہ بندی کے ساتھ داخل ہوا تھا۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں کے لیے اہداف پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں، جن میں ٹیم کی کارکردگی، نوجوان ٹیلنٹ کی ترقی اور تجارتی استحکام شامل ہیں۔
واضح رہے کہ سیالکوٹ کو پاکستان سپر لیگ کی آٹھویں فرنچائز کا درجہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے دیا۔ یہ ٹیم OZ Developers کے نام سے رجسٹرڈ گروپ کو الاٹ کی گئی، جس کے مالک حمزہ مجید ہیں۔ نیلامی کا انعقاد اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں کیا گیا، جہاں مختلف سرمایہ کار گروپس نے حصہ لیا۔
پاکستان سپر لیگ 2026 سے باضابطہ طور پر چھ سے بڑھ کر آٹھ ٹیموں پر مشتمل ہو جائے گی۔ نیا سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک شیڈول کیا گیا ہے، جس میں سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز پہلی بار لیگ کا حصہ بنے گی۔ اس توسیع کو لیگ کے مستقبل پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگرچہ فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے شہر شائقین کے لیے پرکشش ہیں، تاہم انفراسٹرکچر، معاشی طاقت، عالمی شناخت اور اسپورٹس ورثے کی بنیاد پر سیالکوٹ پی ایس ایل فرنچائز کا انتخاب پاکستان سپر لیگ کے لیے ایک اسٹریٹجک فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے



