ملتان سلطانز ری برانڈنگ

ملتان سلطانز ری برانڈنگ
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی معروف فرنچائز ملتان سلطانز ایک بڑے اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اس کی شناخت میں نمایاں تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے فرنچائز کو فروخت کرنے کے عمل میں تیزی لانے کے بعد یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں ملتان سلطانز کا نام، لوگو اور مجموعی برانڈ تبدیل ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اگر ملتان کی یہ فرنچائز موجودہ مالک علی ترین کے بجائے کسی نئے سرمایہ کار کو فروخت کی جاتی ہے تو نئے مالکان کو مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ٹیم کا نام تبدیل کریں یا موجودہ شناخت کو برقرار رکھیں۔ پی سی بی نے واضح کر دیا ہے کہ “ملتان سلطانز” کا نام برقرار رکھنا کسی بھی نئے خریدار کے لیے لازمی شرط نہیں ہوگی۔
یہ صورتِ حال ملتان سلطانز ری برانڈنگ کے امکانات کو مزید مضبوط بناتی ہے، کیونکہ نئے مالکان اپنی مرضی کے مطابق ٹیم کو ایک نئی شکل دے سکتے ہیں۔ اس میں نیا نام، نیا لوگو، نئی جرسی اور ایک تازہ کمرشل اسٹریٹجی شامل ہو سکتی ہے، جس کا مقصد ٹیم کی مارکیٹ ویلیو اور فین انگیجمنٹ کو مزید بڑھانا ہوگا۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ اب یہ چاہتا ہے کہ ملتان سلطانز کو پی ایس ایل 11 سے پہلے ہی نیلامی کے ذریعے فروخت کر دیا جائے، بجائے اس کے کہ اس عمل کو بعد کے کسی مرحلے تک مؤخر کیا جائے۔ اس سلسلے میں توقع ہے کہ پی سی بی جلد ایک باضابطہ اشتہار جاری کرے گا، جس میں اہل سرمایہ کاروں کو بولی میں حصہ لینے کی دعوت دی جائے گی۔ یہ نیلامی ممکنہ طور پر اسی طریقۂ کار کے تحت ہوگی جو حال ہی میں پی ایس ایل کی توسیعی ٹیموں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ملتان سلطانز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کوئی نئی یا توسیعی فرنچائز نہیں بلکہ ایک ایسی ٹیم ہے جس کا پی ایس ایل میں مضبوط ریکارڈ اور وفادار فین بیس موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمرشل اعتبار سے یہ فرنچائز سرمایہ کاروں کے لیے خاصی پرکشش سمجھی جا رہی ہے، اور ملتان سلطانز ری برانڈنگ کی صورت میں اس کی مارکیٹ ویلیو مزید بڑھ سکتی ہے۔
وقت کا انتخاب بھی اس پورے عمل میں انتہائی اہم ہے، کیونکہ پی ایس ایل 11 کی تیاریاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، آئندہ سیزن کے لیے کھلاڑیوں کا ڈرافٹ تقریباً 30 جنوری کے آس پاس متوقع ہے۔ ایسی صورت میں تمام فرنچائزز کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کی انتظامی اور فیصلہ سازی کی صورتحال واضح ہو، تاکہ ٹیم کمبینیشن، اسٹریٹجی اور پلاننگ بروقت مکمل کی جا سکے۔
اگر فرنچائز کی فروخت سیزن سے پہلے مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے یہ فیصلہ بھی واضح ہو جائے گا کہ آیا پی سی بی عارضی طور پر ٹیم کے معاملات چلاتا رہے گا یا نیا مالک مکمل کنٹرول سنبھالے گا اور ایک نیا روڈ میپ متعارف کروائے گا۔ یہ مرحلہ ملتان سلطانز ری برانڈنگ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ علی ترین کے دورِ ملکیت کے اختتام کے بعد سے ملتان سلطانز کی صورتحال غیر یقینی کا شکار رہی ہے۔ اس دوران پی سی بی نے فرنچائز کو فعال رکھنے کے لیے عبوری انتظام سنبھالا، تاکہ ٹیم لیگ میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکے اور کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔
اگر پی سی بی کی جانب سے مقرر کردہ تیز رفتار ٹائم لائن کے مطابق نیلامی مکمل ہو جاتی ہے تو قوی امکان ہے کہ ملتان اگلے پی ایس ایل سیزن میں نہ صرف نئے مالکان کے تحت میدان میں اترے بلکہ ایک نئی شناخت کے ساتھ بھی شائقین کے سامنے آئے۔ یوں ملتان سلطانز ری برانڈنگ پی ایس ایل کی تاریخ کا ایک اہم اور دلچسپ باب بن سکتی ہے۔



