انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی

انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں 15 جنوری کو انٹرنیٹ سروسز کے سست یا معطل ہونے کے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔ پی ٹی اے کے حکام نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش دعوے بالکل بے بنیاد ہیں اور ملک گیر سطح پر کسی قسم کے کنیکٹیویٹی مسائل کے امکانات نہیں ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق، پاکستان میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی مکمل طور پر مستحکم ہے اور کسی بھی جگہ پر انٹرنیٹ سروس کے متاثر ہونے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ اتھارٹی نے مزید کہا کہ ملک کے بڑے اپ اسٹریم فراہم کنندگان، بشمول پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) اور ٹرانس ورلڈ، معمول کے مطابق اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں اور ان کے نیٹ ورکس پر کسی بھی قسم کی سروس کی کمی یا خرابی نہیں دیکھی گئی۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب کچھ صارفین نے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر نیاٹل (Nayatel) کی جانب سے موصول ہونے والا ای میل شیئر کیا، جس میں انہیں مطلع کیا گیا کہ پاکستان کے ایک زیرِ سمندری کیبل پر لازمی مینٹیننس کا کام 15 جنوری 2026 کو دوپہر 2 بجے کے قریب شروع ہو گا۔ ای میل میں بتایا گیا کہ یہ کام تقریباً آٹھ گھنٹے جاری رہ سکتا ہے اور اس دوران کچھ صارفین کو انٹرنیٹ کی سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، اس ای میل میں متاثرہ کیبل کا نام یا اس کا مقام واضح نہیں کیا گیا تھا۔
پی ٹی اے کے اہلکاروں نے صارفین کو یقین دلایا کہ زیرِ سمندری کیبلز پر معمول کی مینٹیننس عام طور پر ملک بھر کی انٹرنیٹ سروسز پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کو کسی قسم کی دشواری یا غیر اطمینان کن صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور پاکستان بھر میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بلاتعطل اور مستحکم رہے گی۔
پی ٹی اے نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو محفوظ بنانے کے لیے تمام اہم نیٹ ورک فراہم کنندگان دن رات نگرانی اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، تاکہ صارفین کو بغیر رکاوٹ کے آن لائن خدمات میسر آئیں۔ حکام نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی افواہ یا غلط معلومات پر اعتماد نہ کریں اور تصدیق شدہ ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے 15 جنوری کو ملک گیر انٹرنیٹ سست ہونے کے حوالے سے خطرے کی اطلاعات شیئر کیں، جس سے عام صارفین میں خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ پی ٹی اے کی طرف سے جاری کردہ بیان نے ان خدشات کو ختم کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی کہ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی معمول کے مطابق جاری رہے گی اور صارفین بلا تعطل خدمات حاصل کرتے رہیں گے۔
پی ٹی اے کا یہ موقف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور اس کی نگرانی انتہائی موثر ہے۔ زیرِ سمندری کیبلز پر مینٹیننس کے کام عام طور پر صرف محدود حد تک نیٹ ورک پر اثر ڈال سکتے ہیں، اور عام صارفین کے روزمرہ استعمال میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا۔
نتیجتاً، صارفین 15 جنوری کو انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے پریشان نہ ہوں اور اپنے ڈیجیٹل کام، آن لائن تعلیم، کام کی ٹرانزیکشنز اور تفریحی سرگرمیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھ سکتے ہیں۔ پی ٹی اے نے اس موقع پر یہ بھی زور دیا کہ صارفین اپنی سروس پرووائیڈر سے رابطے میں رہیں اور کسی بھی غیر مستند خبر پر بھروسہ نہ کریں۔
اس بیان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی محفوظ اور مستحکم ہے، اور تمام صارفین ملک بھر میں بغیر کسی رکاوٹ کے ڈیجیٹل دنیا سے جڑے رہ سکتے ہیں۔



