
رپورٹ: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خدشات کے تناظر میں عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے ان مذاکرات کا مرکزی مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور اس پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی پر بات چیت کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچا جہاں اس نے عمانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ امریکی وفد بھی ان مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شریک ہے، جبکہ عمان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں دونوں فریقین نے اپنے اپنے مؤقف اور تجاویز عمانی حکام کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائیں۔ مذاکرات کے دوران یہ اشارے ملے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود بعض اختلافات میں کمی آ رہی ہے اور ایک ابتدائی فریم ورک پر بات چیت ہو رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی اور عوامی احتجاج نے حکومت پر اقتصادی ریلیف فراہم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران ان مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے،
تاہم ایرانی حکام اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ وہ کسی کمزوری کے باعث مذاکرات کی میز پر آئے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جوہری سرگرمیوں پر کنٹرول کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے۔
عالمی برادری، خصوصاً روس اور یورپی ممالک نے بھی ان مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے تحمل اور سفارتکاری پر زور دیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ بالواسطہ مذاکرات براہِ راست بات چیت میں تبدیل ہوں گے یا نہیں،



