پاکستان میں سائبر خطرات

پاکستان میں سائبر خطرات
پاکستان میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (NCERT) نے ملک بھر میں سائبر خطرات کے حوالے سے ہائی پرائرٹی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اس اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ فوجی اور حکومتی نیٹ ورکس، بینکنگ سسٹمز، اور عوامی نظم و نسق کے لیے نفسیاتی کارروائیاں کرنے والے ڈیپ فیک اور جعلی معلومات پھیلانے والے حملے مستقبل قریب میں ہو سکتے ہیں۔
NCERT کے مطابق موجودہ غیر مستحکم ماحول کو ریاستی پشت پناہی یافتہ ہیکرز، ہیکٹووسٹ گروپس، اور مالیاتی مفاد پر مبنی سائبر مجرم آسانی سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں دفاع، مالیات، حکومتی انفراسٹرکچر، میڈیا اور بنیادی سہولیات جیسے توانائی، پانی اور ٹیلی کام کے شعبے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ممکنہ کامیاب سائبر حملوں کے نتیجے میں سرکاری پورٹلز اور میڈیا پلیٹ فارمز کے اکاؤنٹس ہیک ہو سکتے ہیں، تیسرے فریق کے وینڈرز کے ذریعے سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، اور توانائی، نقل و حمل اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے اہم انفراسٹرکچر میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
NCERT نے حملے کے مختلف طریقوں کی نشاندہی کی ہے جو اس وقت دیکھے جا رہے ہیں یا جن کی توقع کی جا رہی ہے، جن میں شامل ہیں:
- حکومت اور ہنگامی سروسز کے پورٹلز پر ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (DDoS) حملے
- اعلیٰ عہدے داروں کی جعلی شناخت سے ڈیپ فیک اور مصنوعی میڈیا کیمپینز
- فوجی اور حکومتی عملے کو نشانہ بنانے والی اسپئر فشنگ کوششیں
- مالویئر اور اسپائی ویئر رکھنے والی مشکوک موبائل ایپس
- کمزور یا دوبارہ استعمال شدہ پاس ورڈز کے ذریعے کریڈینشل اسٹفنگ حملے
- جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے غلط معلومات پھیلانا
اعلامیے میں خطرے کے تین اہم ذرائع بھی واضح کیے گئے ہیں:
- نظریاتی مقاصد رکھنے والے ہیکٹووسٹ گروپس
- انتہائی ماہر ریاستی پشت پناہی یافتہ ایڈوانسڈ پرسسٹنٹ تھریٹ (APT) ایکٹرز
- مالیاتی فوائد کے لیے کام کرنے والے سائبر مجرمان
اس صورتحال میں مالیاتی ادارے، حکومتی محکمے، دفاعی ادارے، صحافی، اور اہم خدمات فراہم کرنے والے ادارے خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ عام شہریوں کو بھی فشنگ اور مالویئر مہمات کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی معلومات اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کو محفوظ رکھ سکیں۔
NCERT نے تمام اداروں اور افراد پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مضبوط سائبر سیکیورٹی اقدامات اپنائیں، جن میں شامل ہیں:
- اینڈپوائنٹ پروٹیکشن اور موبائل تھریٹ ڈیفنس سسٹمز کا نفاذ
- ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن لازمی بنانا اور ایس ایم ایس پر مبنی تصدیق ختم کرنا
- VPNs، فائر والز اور آپریٹنگ سسٹمز کی فوری پیچنگ
- حساس ڈیٹا کے لیے انکرپٹڈ کمیونیکیشن چینلز کا استعمال
- سسٹم لاگز کی مسلسل نگرانی برائے مشکوک غیر ملکی رسائی
- باقاعدہ آف لائن اور ایئر گیپڈ ڈیٹا بیک اپس
- پاکستان میں سائبر خطرات
مزید برآں، اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سائبر سیکیورٹی ڈرلز کریں، سپلائی چین وینڈرز کا آڈٹ کریں، زیرو ٹرسٹ آرکیٹیکچر اپنائیں، حساس سسٹمز تک غیر ملکی IP رسائی محدود کریں، اور انکرپشن اسٹینڈرڈز کو مضبوط کریں۔
NCERT نے IT ٹیموں سے بھی کہا ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کی پیشگی تلاش کریں، فوراً سیکیورٹی آڈٹس کریں، اور افراد کو سخت سائبر ہائجین پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ غلط معلومات اور فراڈ سے ہوشیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔
اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ فوری طور پر ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن اپنانا، سسٹمز کی بروقت پیچنگ، اور زیرو ٹرسٹ سیکیورٹی فریم ورک کو نافذ کرنا پاکستان میں سائبر خطرات کے خلاف قومی انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف فوجی اور حکومتی نیٹ ورکس بلکہ بینکنگ، میڈیا، اور عوامی سہولیات کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
پاکستان میں سائبر خطرات کے موجودہ منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں اور اداروں کو محتاط رہنا چاہیے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینا چاہیے تاکہ ملک کی سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
پاکستان میں سائبر خطرات



