
ریاست
جی ایم ایڈوکیٹ
کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری اور معاشی استحصال کی بھیانک تصویر
راقم نے کچھ دن قبل ایک کالم تحریر کیا تھا جس کا عنوان تھا “کم از کم اجرت پر عملدرآمد ریاست کی اولین ذمہ داری اور غازیانِ گلگت بلتستان کا استحصال”۔ اس کالم کے شائع ہونے کے بعد سینکڑوں مزدوروں، محنت کشوں، سیکیورٹی گارڈز، اخباری رپورٹرز، ہوٹل ورکرز اور دیگر مظلوم طبقات نے فون اور پیغامات کے ذریعے رابطہ کیا۔ ان سب نے اپنی اپنی داستانِ محرومی سنائی، اپنے استحصال کا دکھ بیان کیا اور گزارش کی کہ ان کی زبوں حالی پر بھی آواز اٹھائی جائے۔ انہی محنت کشوں کی فریاد کے جواب میں آج یہ کالم تحریر کیا جا رہا ہے تاکہ وہ طبقے جو ریاست، سرمایہ داروں اور مالکان کی بے حسی کے باعث ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، ان کا دکھ قوم کے ضمیر تک پہنچے۔
کم از کم اجرت کا اہتمام کسی بھی مہذب اور منصف معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ وہ ستون ہے جس پر سماجی انصاف، انسانی وقار اور معاشی استحکام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جب ایک مزدور اپنی دن رات کی محنت کے بدلے اتنی اجرت حاصل نہ کر سکے کہ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی، تعلیم، اور علاج مہیا کر سکے، تو یہ صرف ایک معاشی کمزوری نہیں بلکہ پورے نظام کی اخلاقی ناکامی ہے۔ کم از کم اجرت پر عملدرآمد نہ ہونا ایک ایسا زہر ہے جو آہستہ آہستہ معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ریاست کا فرض ہے کہ وہ قانون بنائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرائے، مگر جب قانون موجود ہونے کے باوجود محنت کش طبقہ استحصال کا شکار ہو تو یہ حکومت اور انتظامیہ دونوں کے کردار پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
گلگت بلتستان جیسے خطے میں جہاں محنت کش طبقہ زیادہ تر دیہاڑی دار مزدوروں، سیکیورٹی گارڈز، ہوٹل ورکرز، اخباری رپورٹرز اور گھریلو ملازمین پر مشتمل ہے، وہاں کم از کم اجرت کا قانون محض ایک خواب بن چکا ہے۔ حکومت نے “Gilgit-Baltistan Minimum Wages Act 2019” کے تحت سال 2025-26 کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40,000 روپے مقرر کی ہے
مگر عملاً کسی بھی شعبے میں اس قانون کی روح نظر نہیں آتی۔ سب سے زیادہ افسوسناک مثال وہ اخباری رپورٹرز ہیں جو پاکستان کے قومی ٹی وی چینلز کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی ماہانہ اجرت صرف آٹھ سے دس ہزار روپے ہے۔ حالانکہ انہیں ایک خبر کے عوض 1750 روپے کی ادائیگی کا وعدہ کیا گیا، مگر عملاً یہ وعدہ بھی دھوکہ ہے۔ رپورٹر جتنی بھی خبریں بھیج دے، انہیں مہینے کے آخر میں صرف آٹھ ہزار کے قریب تنخواہ ملتی ہے، وہ بھی کئی مہینوں بعد۔ ان میں سے اکثر کے پاس کوئی باقاعدہ کنٹریکٹ نہیں
کوئی روزگار کا تحفظ نہیں، اور اگر کوئی اپنے حق کی بات کرے تو فوراً نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہی نہیں، یہ رپورٹرز برف باری، سیلاب، حادثات، دہشت گردی کے واقعات اور عوامی مسائل کی رپورٹنگ کے دوران اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں، مگر ریاستی ادارے اور میڈیا مالکان انہیں صرف ایک قابلِ استعمال شے سمجھتے ہیں۔ اسی طرح اخبارات کے مالکان بھی اپنے نمائندگان کے سب سے بڑے استحصالی ہیں۔ ان رپورٹرز کو آٹھ سے بارہ ہزار روپے ماہانہ دیا جاتا ہے، جبکہ وہی مالکان اشتہارات، سرکاری فنڈز اور سبسڈیوں کی مد میں لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔
یہ کھلی منافقت اور قانون کی توہین ہے۔ Gilgit-Baltistan Minimum Wages Act کے سیکشن 8 (3) کے مطابق کسی بھی ادارے کو کسی ملازم کو حکومتی تعین شدہ کم سے کم اجرت جو کہ آجکل چالیس ہزار روپے ہے سے کم اجرت دینا قانونی جرم ہے۔ میں یہاں اس مخصوص سیکشن کو Reproduce کرتا ہوں. ” Section 8:- Prohibitions to Pay Wages at a Rate Below the Rate of Minimum Wage s___ اسکا Sub Section (3):-” Any person contravenes the provisions of this section shall be punished with imprisonment for terms which may extend to six months…..” مگر بدقسمتی سے ان قوانین کے محافظ ہی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں تو عملدرآمد کون کرائے گا.
یہی حال ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے نوجوانوں کا ہے۔ وہ صبح چھ بجے سے رات ایک بجے تک کھڑے رہتے ہیں، تھکن سے چور، مگر ان کی اجرت بمشکل دس سے پندرہ ہزار روپے ہے۔ نہ آرام کا وقت، نہ ہفتہ وار چھٹی، نہ ہی کسی حادثے یا بیماری کی صورت میں تحفظ۔ ان کے مالک اپنی آسائشوں میں مگن ہیں جبکہ ان کے کارکن غربت اور مایوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ آپ پرائیویٹ اسکولوں کے ٹیچرز کی کہانی سنیں پڑھ لکھ کر ڈگریاں لینے کے بعد کسی انپڑھ اسکول مالک کے ہاتھوں پانچ ہزار سے پندرہ ہزار کی معمولی تنخواہ پر جیتے جی مر رہے ہوتے ہیں. سیکیورٹی گارڈز، جن میں بڑی تعداد ان غازیوں کی ہے جنہوں نے وطن کی سرحدوں پر اپنی جوانیاں قربان کیں آج انہی دیس میں اپنی عزتِ نفس بچانے کے لیے بارہ، سولہ بلکہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ ان سے اوورٹائم لیا جاتا ہے مگر اوورٹائم کا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
ریاست

ان کے پاس نہ کوئی قانونی سہارا ہے نہ کوئی ادارہ جو ان کی آواز بنے۔ پٹرول پمپس پر کام کرنے والے مزدور بھی اسی المیے کا شکار ہیں۔ ان سے صبح سویرے سے رات گئے تک ڈیوٹی لی جاتی ہے، مگر تنخواہ کے نام پر انہیں دس بارہ ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ ڈرائیور حضرات، گھریلو ملازمین، جو دوسروں کے گھروں کی خدمت کرتے ہیں، خود اپنے گھروں میں غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ نہ ان کے لیے کوئی اوقات کار مقرر ہیں، نہ اجرت کا نظام، نہ تحفظ۔ ان کی حالت غلامی سے کم نہیں۔
یہ تمام طبقات ایک ہی نظام کے شکار ہیں ایک ایسا نظام جو قانون بناتا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں کراتا۔ محکمہ محنت و صنعت، لیبر انسپیکشن
ڈائریکٹوریٹ، اور انتظامیہ کے وہ افسران جو ان قوانین کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں، وہ کہاں ہیں؟ وہ اپنی تنخواہیں، الاؤنسز، اور مراعات تو باقاعدگی س وصول کرتے ہیں مگر مزدور کے حق کے تحفظ کے لیے ایک قدم بھی نہیں اٹھاتے۔ یہ بدعنوانی صرف مالی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی موت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان نااہل افسران، ظالم مالکان اور خاموش نگرانوں سے کون پوچھے گا؟
جب خود ریاستی چینل مزدور کے حق پر ڈاکہ ڈالے، تو پھر نجی اداروں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ حکومت اور ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کم از کم اجرت کا قانون محض ایک اقتصادی ضابطہ نہیں بلکہ انسانی وقار کا پیمانہ ہے۔ اگر اس ملک میں ایک مزدور اپنے بچوں کو تعلیم اور علاج مہیا نہیں کر سکتا، تو یہ صرف اس مزدور کی نہیں بلکہ ریاست کی ناکامی ہے۔
لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ حکومت گلگت بلتستان، چیف سیکرٹری، سیکرٹری لیبر اینڈ انڈسٹری، اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں۔ تمام اخباری و ٹی وی چینلز، ہوٹلوں، سیکیورٹی کمپنیوں، پرائیویٹ تعملی اداروں، پٹرول پمپس، اور گھریلو ملازمتوں کے نظام کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ جو ادارے کم از کم اجرت ادا نہیں کر رہے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں، بھاری جرمانے عائد کیے جائیں، اور جو افسران اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برت رہے ہیں،
ان کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی جائے۔ یہ وقت صرف بیانات یا وعدوں کا نہیں بلکہ انصاف کے عملی مظاہرے کا ہے۔ اگر واقعی ریاست اپنے محسنوں، مزدوروں، اور عوام کے ساتھ مخلص ہے تو کم از کم اجرت کے قانون پر فوری اور مؤثر عملدرآمد اس کا پہلا قدم ہونا چاہیے۔ کیونکہ محنت کش کا پسینہ جب انصاف کے سایے میں سوکھے گا، تب ہی ریاست کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ خود کو ایک منصف اور باوقار ریاست کہہ سکے۔



