
مامدانی، میرا کی کہانی
مامدانی، میرا کی کہانی
کبھی ایک لڑکی تھی جو کیمرے کے پیچھے دنیا دیکھتی تھی۔
روشنی، چہروں اور کہانیوں کے بیچ اُس نے خود کو پہچانا۔
نام تھا — میرا نائر۔
روڑکیلا کے پرسکون صحنوں سے دہلی کی بھاگتی گلیوں تک
اور پھر ہارورڈ کے سرد آسمانوں تلے، اُس نے خواب دیکھنے
اور اُنہیں حقیقت میں بدلنے کا ہنر سیکھا۔
وہ عورت جو زندگی کو فلم نہیں، ایمان کی طرح برتتی تھی۔
جس نے دکھ کو بھی رنگ دیا، اور خوشی کو بھی خاموشی میں سمیٹا۔
پھر زندگی نے ایک نیا منظر دکھایا۔
اُس کے بیٹے زوہران مامدانی نے سیاست کو اپنا میدان بنایا۔
ماں نے کیمرے سے کہانیاں سنائیں، بیٹے نے قانون سے۔
ایک نے کردار تراشے، دوسرے نے اُن کرداروں کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا۔
میرا نے اپنے بیٹے کو دولت نہیں، نظریہ دیا
وہ نظر جو طاقت میں رحم، اور اختیار میں کردار تلاش کرتی ہے۔
اُس نے سکھایا کہ جیتنا اتنا اہم نہیں، جتنا سچا رہنا۔
آج جب زوہران مامدانی نیویارک کا میئر منتخب ہوا ہے
دنیا ایک سیاسی جیت دیکھ رہی ہے
مگر ایک ماں کے دل میں یہ لمحہ کسی فلم کے آخری منظر جیسا ہے
جہاں روشنی دھیرے دھیرے مدھم ہوتی ہے
اور موسیقی خاموشی میں بدل جاتی ہے۔
یہ اُس کہانی کا عروج ہے
جس میں ایک عورت نے اپنے خواب، اپنی پہچان
اور اپنے بیٹے کی کامیابی کو ایک ہی دھاگے میں پرو دیا۔
مگر کہانیاں ختم نہیں ہوتیں۔
جہاں ماں کا سفر اپنے کمال پر پہنچتا ہے،
وہیں بیٹے کی کہانی آغاز پاتی ہے۔
اب دنیا دیکھے گی
کیا زوہران واقعی وہی ہے جو وہ کہتا ہے؟
کیا وہ وہی سچ نبھا سکے گا جو اُس کی ماں نے اپنے ہر فریم میں دکھایا؟
وقت ہی بتائے گا
یہ مامدانی میرا کی کہانی
ایک خواب کی تکمیل ہے یا ایک نئے خواب کا آغاز۔
مامدانی، میرا کی کہانی

مامدانی، میرا کی کہانی
مزید نیوز پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔۔۔۔ https://ptnlive.com/



