کراچی پاکستان۔
کراچی میں چیئرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ کی زیرِ صدارت گوادر پورٹ سے متعلق اہم اجلاسوں کا سلسلہ جاری رہا، جن میں بین الاقوامی شپنگ لائنز، کاروباری اداروں اور فریٹ فارورڈرز نے شرکت کی۔ اجلاسوں میں گوادر پورٹ کی آپریشنل صلاحیت، مسابقتی ٹیرف، سرمایہ کاری کے مواقع اور علاقائی تجارت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔چیئرمین نے بتایا کہ گوادر پورٹ کاانفراسٹرکچر مکمل ہے۔

سہولت، جدید کارگو سسٹم،ریفریجریٹڈ پوائنٹس، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور زیرو ویٹنگ ٹائم دستیاب ہیں۔ بندرگاہ کی سالانہ ہینڈلنگ صلاحیت 3.5 ملین ٹن ہے۔نورالحق بلوچ کے مطابق بندرگاہ کو نیشنل گرڈ سے منسلک کر دیا گیا ہے اور 1.2 ایم جی ڈی یومیہ صلاحیت کا ڈیسالینیشن پلانٹ فعال ہے۔ گوادر فری زون میں ٹیکس سہولت، طویل لیز اور امیگریشن کی آسانیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کا آغاز کر دیا ہے
ہیپاگ-لوئڈ اور ایم ایس سی کے ساتھ ملاقاتوں میں ٹرانزٹ ٹریڈ، فیڈر سروسز، کنٹینر ٹرانسفر، سنٹرل ایشیا تک رسائی اور نئی شپنگ لائنز کی شمولیت پر اتفاق ہوا۔ ایم ایس سی نے گوادر سے کروز، بریک بلک اور فرٹیلائزر آپریشنز میں دلچسپی ظاہر کی جبکہ چیئرمین نے انہیں فری زون میں فری آف کاسٹ دفتر کی پیشکش کی۔نورالحق بلوچ نے کہا کہ گوادر پاکستان کا معاشی مستقبل ہے اور ہم سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات فراہم کر رہے ہیں تاکہ اسے خطے کا بڑا تجارتی مرکز بنایا جا سکے۔



