سپورٹس گالا
تحریر : نجف علی
غالبا ایک ماہ قبل یونیوسٹی سپورٹس گالا میں طالبات اپنے پسندیدہ ٹیم کی جیت کی خوشی میں تالیاں بجانے والی ویڈیو کو مکسنگ کرکے شور شرابا کیا گیا
ہمیں مدرسہ . جامعہ اور یونیورسٹی میں فرق کرنا ہوگا
ہمیں اپنی بیٹیوں پر اعتماد کرنا ہوگا ان کی بہتر تربیت کرنی ہوگی
سکردو میں کیبل لگانے کی کوشش کی گئی تو ان کو اجازت نہیں ملی پھر پاک کیبل کے نام سے اسلامی ٹچ دے کر کیبل لگایا گیا تو اتنے سینسر تھے کہ پوری خبر نہیں دیکھ سکتا تھا
اب ہر ایک کی جیب اور ہاتھ میں ہرقسم کے فحش ویب سائڈ لئے پھر رہا ہے
کیا ہم نے اپنی بیٹیوں کی تربیت کرنے یا انہیں اچھے اور برے سمجھانے کی کوشش کی ہے
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ٹچ موبائل اور نیٹ ہے
کیا ہم نے اپنی بچوں کو موبائل استعمال کرنے کے طریقے بتایا ہے
کیا ہم نے کبھی اپنی بچوں کے موبائل چیک کی ہے
سپورٹس گالا
اسی تین دن کے دوران دو بچیوں کا موبائل فون کی وجہ سےغائب پھر پولیس کے زریعے بازیاب کرنے کا دو واقعہ کا میں خود چشم دید گواہ ہوں
کیا خپلو شگر اور سکردو سے تعلق رکھنے والی بچیاں بھاگ کر شادی کرنے میں یونیورسٹی یا جشن مے فنگ کا قصور ہے
کیا ہم نے کبھی سوچنے یا دیکھنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ ایبٹ اباد اسلام اباد لاہور میں جن ہاسٹل میں بچوں کو رکھا ہوا ہے وہاں کیا گل کھلا رہا ہے
سپورٹس گالا

بہت کم عرصے میں ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کی ہے کہ ہماری مثال اس بچھڑے کی ہوئی ہے جس کے پیدائش کے دو دن بعد اس کو چھوڑ دیں تو بھاک کر کسی کھائی میں گرے گا یا دیوار سے سر ٹکرائے گا
تین سال قبل کے ائی یو میں پڑھنے والی بلتستان کی بیٹیوں کو ان کی تربیت کے حوالے سے میں نے بیس منٹ لیکچر دی تو وہ بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی اس طرح کی باتیں ہم نے پہلی بار سنی ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہما اپنے بچوں کی تربیت گھر سے شروع کریں
کوئی موٹرسائیکل یا گاڑی والے راستے میں روک کر بیٹھنے کا افر کرے تو گھر میں بتانا ہے
کوئی کلرک یا استاد ٹچ کرنے کی کوشش کرے یا کوئی نمبر مانگیں یا فارم پر لکھا ہوا نمبر سے مسیج کریں تو گھر میں بتائیں
سپورٹس گالا

اپنے بچوں کو دوست بنائیں ان کو غیر ضروری سختی یا
شک کرنے کی بجائے کھل کر باتیں کریں ان پر اعتماد کریں
سکولوں کالجوں اور مدارس میں ان موضوعات پر لیکچر دیں
ہم تبدیلی اور ٹیکنالوجی روک نہیں سکتے ان کا بہتر
استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے
خدا نے دو پاوں یا دو ہاتھ ہم سب کو دیا ہے
یہ آپ پر منحصر ہے کہ ان سے کیا کام لینا ہے
مسجد جانا ہے یا رات کو چوری کرنا ہے یہ فیصلہ آپ کا اپنا ہے
شکریہ



