
سرکاری نوکری صرف آرامگاہ کے علاوہ کچھ نہیں؟
سرکاری نوکری، خدمت یا آرامگاہ؟
تحریر : سلیم برچہ

ہم سب کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہے۔ بچپن سے والدین کہتے ہیں: بیٹا دل لگا کر پڑھو، تاکہ بڑی نوکری ملے۔ پھر اسکول، کالج اور یونیورسٹی سب جگہ مہنگی فیسیں دے کر پرائیویٹ سیکٹر سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ڈگری ہاتھ میں آتی ہے، خواب صرف ایک رہ جاتا ہے کہ کاش کوئی سرکاری نوکری لگ جائے۔
اب یہ خواہش اس لیے نہیں ہوتی کہ ہم ملک و قوم کی خدمت کریں گے، عوام کے مسائل حل کریں گے یا ایمانداری سے فرائض نبھائیں گے۔ نہیں جناب! اصل خواہش تو یہ ہوتی ہے کہ سرکاری بندہ کہلائیں تاکہ محلے میں عزت بڑھے، خاندان میں رعب بیٹھے، اور لوگ دیکھ کر کہیں ماشاءاللہ، فلاں تو اب سرکاری افسر بن گیا ہے
سرکاری نوکری
پھر دفتر میں آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کا مطلب ہوتا ہے! گھڑی دیکھنا، چائے پینا، فائل الٹنا پلٹنا، اور اگر بڑے صاحب نہ ہوں تو کام کا بوجھ “کل کر لیں گے” کہہ کر ہلکا کر دینا۔ بیچارا عوام جو صبح سے لائن میں لگا رہتا ہے، اس سے یہی سننے کو ملتا ہے
کہ صاحب نہیں آئے، کل آنا! یہی وہ عوام ہیں جن کے ٹیکسوں سے تنخواہ ملتی ہے، لیکن ان کے کام کو سب سے آخر میں رکھا جاتا ہے۔ںچھٹیوں کا معاملہ الگ دلچسپ ہے۔ ہفتے میں دو دن آرام، سال میں کئی بار لمبی چھٹیاں، اور اگر بہانہ نہ ملے تو طبیعت خراب کا کارڈ کھیل دیا جاتا ہے۔ پھر جون میں بجٹ آئے تو بحث شروع ہو جاتی ہے کہ تنخواہ میں کتنا اضافہ ہوا، اور دسمبر میں بونس آیا یا نہیں۔ کام کتنے گھنٹے کیا یہ سوال کبھی ذہن میں نہیں آتا۔
پھر جب پینشن کا وقت آتا ہے تو فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے پورے تیس سال سرکاری خدمت کی ہے! حالانکہ خدمت کم، آرام زیادہ کیا ہوتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد حج، عمرہ، اور نام کے ساتھ “حاجی صاحب” کا اضافہ کر کے ضمیر کو تسلی دی جاتی ہے
کہ اب سب گناہ معاف۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ سرکاری نوکری بری ہے، بلکہ نظام خراب ہے۔ ترقیاں اہلیت اور کارکردگی پر نہیں، بلکہ سفارش اور تعلقات پر ہوتی ہیں۔ میٹرک پاس ملازم ساٹھ سال کی عمر تک 18 یا 19 گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، اور وہ نوجوان جو تعلیم یافتہ اور اہل ہیں، ان کے حصے میں صرف مایوسی آتی ہے۔
یہ نظام تباہی کی راہ پر ہے۔ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی تو آنے والی نسلوں کو صرف بدعنوانی، سفارش اور ناانصافی ہی ورثے میں ملے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر محکمے میں ترقی اور تقرری “ٹیسٹ اور میرٹ” کی بنیاد پر ہو۔ جس نے محنت کی ہے، اس کا حق سب سے پہلے دیا جائے۔ ورنہ یہ ملک یونہی سستی، سفارش اور کل کر لیں گے کے چکر میں پھنسا رہے گا۔
نوجوانوں کو اب جاگنا ہوگا۔ اپنی آواز ہر فورم پر بلند کریں، اس فرسودہ نظام کے خلاف کھڑے ہوں۔
کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل ہمارے بچے بھی اسی گھسے پٹے نظام کے غلام بن جائیں گے۔
خدا را! اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری نوکری خدمت کا نشان بنے، نہ کہ آرام گاہ کا دوسرا نام۔



