آئی سی سی بنگلہ دیش سیکیورٹی شرائط

آئی سی سی بنگلہ دیش سیکیورٹی شرائط
بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھارت میں ہونے والے 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بنگلہ دیشی ٹیم کی سیکیورٹی سے متعلق ایسی غیر معمولی شرائط عائد کی ہیں جو کھیل کی روح اور بنیادی اصولوں کے خلاف سمجھی جا رہی ہیں۔
بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل کے مطابق، بنگلہ دیش کی جانب سے آئی سی سی کو دو باقاعدہ خطوط ارسال کیے گئے تھے، جن میں بھارت کے دورے کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان خطوط کے جواب میں آئی سی سی کی سیکیورٹی ٹیم نے ایک تحریری نوٹ ارسال کیا جس میں کہا گیا کہ اگر کچھ مخصوص حالات پیدا ہوتے ہیں تو بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق پہلا “خطرناک عنصر” یہ ہوگا کہ اگر بنگلہ دیش اپنے اسٹار فاسٹ باؤلر مصطفیٰ رحمان کو ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کرتا ہے۔ دوسرا عنصر یہ بتایا گیا کہ اگر بنگلہ دیش کے شائقینِ کرکٹ بھارت میں عوامی مقامات پر قومی پرچم یا ٹیم کی جرسی پہن کر گھومتے ہیں تو سیکیورٹی خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
آئی سی سی بنگلہ دیش سیکیورٹی شرائط
آصف نذرل نے ان شرائط کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل بنگلہ دیش سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ محض بھارت میں میچ کھیلنے کے لیے نہ صرف اپنی بہترین ٹیم منتخب نہ کرے بلکہ اپنے شائقین کو بھی قومی شناخت ظاہر کرنے سے روکے۔ ان کے مطابق ایسی آئی سی سی بنگلہ دیش سیکیورٹی شرائط کسی بھی خوددار کرکٹ بورڈ کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی نوٹ میں ایک تیسری بات کی بھی نشاندہی کی گئی، جس کے مطابق جیسے جیسے بنگلہ دیش کے قومی انتخابات قریب آئیں گے، سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ آصف نذرل کے مطابق یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر بنگلہ دیش کا کوئی کنٹرول نہیں، اور اس بنیاد پر کرکٹ میچز کو غیر محفوظ قرار دینا غیر منطقی ہے۔
آئی سی سی بنگلہ دیش سیکیورٹی شرائط
شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش کو اپنے ابتدائی تین گروپ میچز کولکتہ میں جبکہ آخری گروپ میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔ تاہم حالات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے کولکتہ کی آئی پی ایل فرنچائز کو ہدایت دی کہ وہ مصطفیٰ رحمان کو آئی پی ایل 2026 کے اسکواڈ سے نکال دے۔ اس فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی، جس سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا۔
مصطفیٰ رحمان کی آئی پی ایل سے برطرفی کے بعد بنگلہ دیشی حکام نے ملک میں آئی پی ایل کی نشریات روکنے کی تیاری شروع کر دی، جبکہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ وہ بھارت میں اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کھیلنے پر آمادہ نہیں۔
اس بڑھتے ہوئے تنازع کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک اہم پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے منتقل کیے جاتے ہیں تو پاکستان ان میچز کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ اس پیشکش کو خطے میں کرکٹ کے استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 2026 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 7 فروری 2026 سے شروع ہونا ہے، لیکن موجودہ صورتحال نے ٹورنامنٹ کے انتظامات اور سیکیورٹی خدشات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جلد کوئی حل نہ نکالا گیا تو یہ معاملہ عالمی کرکٹ میں ایک بڑا سفارتی بحران بن سکتا ہے۔
آئی سی سی بنگلہ دیش سیکیورٹی شرائط



