تتہ پانی
آپ سے تتہ پانی . ملوپہ اور بروندو نالہ محفوظ نہیں ہورہا ہے
خالد خورشید حکومت چار ماہ ہوا تھا اور اس وقت کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری سید ابرار حسین تتہ پانی روڈ پر متبادل روڈ اور پل تعمیر کرنے کا بریفنگ دے رہے تھے اور اسی ہفتہ ٹینڈر بھی ہوا تھا آج پانچ سال گزرنے کے باوجود کل اسی جگہ چھ گاڑیاں ملبے میں دب گئے
ملوپہ چڑھائی اور بروندو نالہ روزانہ کی بنیاد پر بلاک ہورہا ہے اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہے
پچھلے سال کہا گیا کہ بیس ارب روپے گلگت سکردو روڈ کو مخفوظ بنانے کے لئے منظور ہوا ہے مگر تاحال کوئی عملی اقدامات نظر نہیں اتا
جبکہ اس دوران مذید چار اضلاع اور وزیر اعلی وزرا اور سیکریٹریوں کے غیر ملکی دوروں پر اربوں روپے خرچ کر چکی ہے
الیکشن کمشنر کا پابندی کے باوجو حال ہی میں حاجی گلبر خان صاحب برطانیہ یاترا پر سات کروڑ روپے اڑا کر واپس تشریف لائے ہے
تین سال قبل سکردو میں پیٹ کی بیماری عام ہوئی
ہمیں عوام نے تجویز دی کہ پانی کی ٹینکی میں کلورین پاوڈر ڈال دیں تو اس بیماری پر قابو پاسکتا ہے
ہم اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر سے ملے انہوں نے ایگزیکٹیو انجنئیر پی ایچ ای کو کال کیا تو ان کا کہنا تھا اس مد میں ان کے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے وہ اگے ڈیمانڈ کریں گے
ٹھیک دو دن بعد موصوف عید کی چھٹی پر گلگت جاتے ہوئے کچورہ چیک پوسٹ پر ان کے بیٹا سے گاڑی کو حادثہ پیش ایا اور وہ گاڑی ایک ہفتے میں مکمل مرمت ہوئی غالبا گاڑی پر اٹھ دس لاکھ خرچ آیا ہوگا
عوام کے لئے بیس ہزار روپے کا کلورین لینے کا پیسہ نہیں تھا مگر گاڑی کے لئے دس لاکھ پیسہ موجود تھا سوال یہ ہے تتہ پانی بروندو نالہ اور ملوپہ سمیت شاہراہ قراقرم اور گلگت سکردو روڈ پر جان بحق ہزاروں بے گناہ مسافروں کے موت کا زمہ دار کون ہے
کیا ہم ان شہدا کو انصاف دلانے کے لئے کسی ادارے سے انصاف مانگ سکتا ہے
کیا کسی زمہ دار فرد یا ادارے کے خلاف ایف آئی آر ممکن ہے
جب تک بجٹ مراعات عیاشیوں پر خرچ ہوتےرہیں گے
عوام بجلی پانی بنیادی سہولیات سے محروم اور تتہ پانی . بروندو نالہ اور ملوپہ پر مرتے رہیں گے
آپ سے تتہ پانی . ملوپہ اور بروندو نالہ محفوظ نہیں ہورہا ہے

اس لنک پر کلک کرے https://youtu.be/sgUL-msMcEM



