الیکٹرک گاڑیاں

الیکٹرک گاڑیاں
پنجاب حکومت نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم اور دور رس پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے تمام سرکاری محکموں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد صاف، جدید اور ماحول دوست سفری ذرائع کو فروغ دینا ہے تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق نئی ہدایات کے تحت اب پنجاب کے تمام سرکاری ادارے صرف الیکٹرک گاڑیاں یا ہائبرڈ گاڑیاں ہی خرید سکیں گے۔ پیٹرول یا ڈیزل پر چلنے والی کسی بھی نئی گاڑی کی سرکاری خریداری کی اجازت نہیں ہو گی۔ تاہم، اس پالیسی میں ایک محدود استثنا بھی رکھا گیا ہے۔ وہ گاڑیاں جو براہِ راست فیلڈ آپریشنز، ایمرجنسی خدمات یا مخصوص عملی ذمہ داریوں کے لیے ناگزیر سمجھی جائیں گی، ان پر یہ پابندی لاگو نہیں ہو گی۔ اس استثنا کا مقصد یہ ہے کہ انتظامی یا عوامی خدمات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
یہ فیصلہ لاہور میں منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران حتمی شکل دیا گیا، جس میں صوبائی حکومت کے اہم وزرا اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پنجاب کو ایک سرسبز، صاف اور ماحول دوست صوبہ بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیاں نہ صرف ایندھن کی بچت کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ فضائی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
الیکٹرک گاڑیاں
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک الیکٹرک موبیلٹی کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں اور پنجاب حکومت بھی اسی عالمی رجحان کے مطابق عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری سطح پر اس تبدیلی کا آغاز کرنے سے نجی شعبہ بھی حوصلہ افزائی محسوس کرے گا اور مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ ہو گا۔
اسی سلسلے میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر پنجاب کے چیف سیکریٹری نے اعلان کیا کہ آئندہ نئے پیٹرول پمپوں کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کے اجرا کو الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب سے مشروط کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد صوبے بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے تاکہ عوام کو چارجنگ کی سہولیات باآسانی دستیاب ہو سکیں۔
حکام کے مطابق جب تک الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مناسب چارجنگ نیٹ ورک موجود نہیں ہو گا، اس ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر اپنانا ممکن نہیں۔ اسی لیے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیٹرول پمپ مالکان کو بھی اس تبدیلی کا حصہ بنایا جائے اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اس اقدام سے نہ صرف الیکٹرک موبیلٹی کو فروغ ملے گا بلکہ نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا یہ قدم کاربن اخراج میں کمی، ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کے مسائل سے نمٹنے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔ الیکٹرک گاڑیاں روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں کم خرچ اور کم شور پیدا کرتی ہیں، جس سے شہری زندگی کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے۔
آخر میں پنجاب حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ پبلک سیکٹر میں ماحول دوست پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بنائے گی اور آئندہ بھی ایسے فیصلے کیے جائیں گے جو عوامی فلاح، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے ضامن ہوں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ آج اٹھایا گیا یہ قدم آنے والے برسوں میں پنجاب کو ایک جدید، صاف اور ترقی یافتہ صوبہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
الیکٹرک گاڑیاں



