

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پشاور میں قائم فیلڈ دفاتر نے غیر قانونی طور پر تیار ہونے والے اور بغیر ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپ کے سگریٹ بنانے کے الزام میں دو معروف سگریٹ ساز اداروں — سووینئر ٹوبیکو اور انڈس ٹوبیکو کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ — کو سیل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی خصوصی ہدایات کے بعد ایف بی آر نے ایک جامع کارروائی منصوبہ تیار کیا جس کا مقصد بغیر ڈیوٹی ادا کیے جانے والی سگریٹ کی پیداوار روکنا، غیر قانونی رسد کے نیٹ ورک ختم کرنا اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس ملک گیر کریک ڈاؤن میں تمام اداروں خصوصاً پاک فوج نے بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔
کارروائی کے حصے کے طور پر، ملک بھر کے گرین لیف تھرشنگ (GLT) مراکز پر پاکستان رینجرز کے تقریباً 120 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ نگرانی بہتر ہو سکے اور غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔
ساتھ ہی 200 سے زائد ایف بی آر مانیٹرز سیلز ٹیکس ایکٹ اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے تحت مختلف فیکٹریوں میں تعینات کر دیے گئے ہیں، جو پیداوار، مال کی ترسیل اور ٹیکس ادائیگی کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایف بی آر کی انٹیلی جنس ٹیم نے 3 نومبر 2025 کو مردان کے علاقے میں ایک خفیہ گودام پر مقامی مجسٹریٹ سے وارنٹ لے کر چھاپہ مارا، جس کے دوران 200 کارٹن بغیر ڈیوٹی اور بغیر ٹی ٹی ایس کے سگریٹ برآمد ہوئے۔ ان سگریٹ کے برانڈز میں بزنس کلاس، ریڈ، اور کراؤن شامل ہیں، جو انڈس ٹوبیکو کمپنی کے رجسٹرڈ برانڈز ہیں۔
اس کارروائی کے بعد 21 نومبر 2025 کو ریجنل ٹیکس آفس پشاور کو کنٹراوینشن رپورٹ بھجوائی گئی۔ تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد 29 نومبر 2025 کو انڈس ٹوبیکو کمپنی کا پیداواری پلانٹ فیڈرل ایکسائز رولز کے تحت سیل کر دیا گیا۔
اس آپریشن کی نگرانی چیف کمشنر آر ٹی او پشاور نے کی، جبکہ عملی کارروائی ڈی سی (آئی آر) ارسلان علی نے انجام دی۔ مزید قانونی کارروائی متعلقہ ایکٹ کی مختلف شقوں کے تحت جاری ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق چھاپے کے دوران ٹیم کو کمپنی کے مسلح افراد کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم افسران نے کسی دباؤ میں آئے بغیر کارروائی مکمل کی، جس سے ریاستی قانون پر ایف بی آر کے پختہ مؤقف کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
اس سے قبل سووینئر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کی جا چکی ہے، جہاں بغیر ڈیوٹی ادا کیے جانے والے سگریٹ کی تیاری ثابت ہونے پر مشینری سیل کی گئی تھی۔
حکام نے بتایا کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی تجارت اور بھاری پیمانے پر ٹیکس چوری کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ 250 سے 300 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے باعث اب غیر قانونی مصنوعات کی نشاندہی آسان ہو گئی ہے، کیونکہ اس میں سکیورٹی فیچرز اور ڈیجیٹل کوڈز جعل سازی کے خلاف مؤثر ثبوت فراہم کرتے ہیں۔



