

بھارتی فائٹر
آرمینیا نے بھارت سے تیجس (Tejas) لڑاکا طیاروں کی خریداری کے مذاکرات روک دیے ہیں۔ یہ فیصلہ دبئی ایئر شو کے دوران ایک طیارہ تباہ ہونے کے چند دن بعد کیا گیا ہے۔
یہ حادثہ ہفتے کے روز پیش آیا اور اس میں پائلٹ ونگ کمانڈر نمنش سیال جان کی بازی ہار گئے۔ اس واقعے نے فوراً طیارے کی قابلِ اعتماد ہونے پر سوالات اٹھا دیے، جس کے باعث یریوان نے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر پیش رفت روک دی ہے۔
مذاکرات کی معطلی سے قبل آرمینیا، بھارتی حکومت اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کے ساتھ 12 تیجس طیاروں کی خریداری پر بات چیت کر رہا تھا، جن کی مالیت 1.2 بلین ڈالر تھی۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو یہ طیارے کی پہلی بڑی برآمد تصور ہوتی
بھارتی فائٹر
تیجس پروگرام 1982 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ بھارت اپنی دفاعی پیداوار میں اضافہ کرے اور عالمی اسلحہ برآمدات میں قدم بڑھا سکے۔ یہ پروگرام مگ-21 طیاروں کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ بھارت نے حال ہی میں اپنے آخری مگ-21 طیارے کو ریٹائر کیا ہے۔ اب تک بھارتی فضائیہ ابتدائی پیداوار کی 40 تیجس یونٹس وصول کر چکی ہے۔
HAL نے اب 97 جدید تر ماڈلز — جنہیں A1 کہا جاتا ہے — کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس ورژن میں وہ جدید خصوصیات شامل ہیں جو مغربی معیار کے لڑاکا طیاروں کے مقابلے کے لیے ضروری ہیں۔ ان میں سے کئی اپ گریڈ اسرائیلی ٹیکنالوجی پر منحصر ہیں، جن میں اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز (IAI) کے فراہم کردہ ریڈار سسٹمز بھی شامل ہیں۔
بھارتی فائٹر
تحقیقات ابھی تک یہ طے نہیں کر سکیں کہ دبئی حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث ہوا یا انسانی غلطی سے۔ تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حادثے نے پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر تیجس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر آرمینیا نے بالآخر یہ خریداری ترک کر دی تو IAI کو بھی کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ طیارے کے اہم اجزاء فراہم کرتی ہے۔



