حکمران اتحاد

جاپان میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جہاں حکمران اتحاد کے قدامت پسند اتحاد کی واضح کامیابی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مختلف رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہ حکمران اتحاد ایوانِ زیریں کی مجموعی نشستوں میں سے بڑی تعداد حاصل کر سکتا ہے۔
یہ قبل از وقت انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حکومت اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے نیا مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی ہے، جس میں دفاعی اخراجات میں اضافہ، سکیورٹی پالیسیوں میں تبدیلی اور امیگریشن قوانین کو سخت بنانا شامل ہے۔
جائزوں کے مطابق حکمران اتحاد 465 رکنی ایوانِ زیریں میں 300 سے زائد نشستیں حاصل کر سکتا ہے، جو اس کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اگرچہ نئے اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم اندرونی تقسیم کے باعث وہ مؤثر چیلنج دینے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہیں۔
مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑا انتخابی مسئلہ
انتخابات میں مہنگائی اور بڑھتی ہوئی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ووٹرز کا سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن حقیقی اجرتیں مہنگائی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہیں، جس کے باعث عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
ملک کو طویل عرصے سے سست معاشی ترقی کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال معیشت کی شرحِ نمو محدود رہی جبکہ آئندہ برس کے لیے بھی کمزور ترقی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے خوراک پر عائد سیلز ٹیکس عارضی طور پر معطل کرنے، توانائی کے بلوں میں سبسڈی، نقد امداد اور فوڈ واؤچرز جیسے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ برسوں میں ایک بڑا معاشی پیکیج بھی منظور کیا گیا، جس کا مقصد مہنگائی کے اثرات کم کرنا ہے۔
دفاع اور امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ
انتخابی مہم کے دوران سکیورٹی اور دفاعی پالیسیوں میں نظرثانی کو بھی اہم نکتہ قرار دیا گیا۔ حکومت ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، اسلحے کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی اور روایتی امن پسند پالیسی سے بتدریج فاصلہ اختیار کرنے کا عندیہ دے چکی ہے۔
اسی طرح امیگریشن کے شعبے میں بھی سخت اقدامات کی تجویز دی گئی ہے، جن میں غیر ملکی جائیداد کی خریداری کے لیے سخت شرائط اور غیر ملکی آبادی کی حد مقرر کرنا شامل ہے۔
more latest news for this link
خراب موسم کے باوجود نتائج پر اثر کا امکان کم
انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک کے کئی حصوں میں شدید برفباری ہو رہی ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں ووٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باوجود انتخابی نتائج پر اس کا نمایاں اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔



