
کراچی کا کچرا بحران خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے، کیونکہ شہر میں روزانہ 14,800 ٹن سے زائد ٹھوس کچرا پیدا ہو رہا ہے—جو اب ممبئی، دہلی اور ڈھاکا جیسے بڑے شہروں سے بھی زیادہ ہے۔ یہ انکشاف سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (ایس ایس ڈبلیو ایم بی) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کیا۔
ایک سیمینار میں پائیدار شہری فضلہ حل کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس ڈبلیو ایم بی کے مینیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی نے بتایا کہ صرف ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ہی روزانہ 3,000 ٹن سے زیادہ کچرا پیدا ہوتا ہے، جو کراچی کے ساتوں اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے کچرے کا 42 فیصد حصہ نامیاتی فضلے پر مشتمل ہے، جسے اگر مناسب طریقے سے علیحدہ کیا جائے تو کھاد یا بایو گیس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ شہر پاکستان کے قابلِ ری سائیکل پلاسٹک کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بھی پیدا کرتا ہے۔
مزید برآں، نظامانی نے بتایا کہایس ایس ڈبلیو ایم بی کا پہلا بایو گیس پلانٹ باغ ابنِ قاسم میں 15 دسمبر سے کام شروع کرے گا۔ یہ پلانٹ روزانہ سات ٹن تک جانوروں کے فضلے کو پروسیس کرے گا اور قریبی 70 سے 80 گھروں کو کم لاگت پر ماہانہ 2,000 روپے کے عوض گیس فراہم کرے گا۔
اگلے مرحلے میں یہی پلانٹ پارک میں بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے بجلی بھی پیدا کرے گا۔ مویشی کالونی میں بھی ایک بڑا بایو گیس پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ بغیر پروسیسنگ کے سمندر میں جانے والے جانوروں کے فضلے کو روکا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ایسے ہیوی وہیکلز جو راستے میں کچرا گراتے ہیں، انہیں آئندہ قانونی اجازت ملنے کے بعد 20 ہزار روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔
نظامانی کے مطابق ایس ایس ڈبلیو ایم بی نے شہر بھر میں کچرا اٹھانے کے لیے 13 ہزار سے زائد کارکن اور 2,300 سے زیادہ گاڑیاں تعینات کر رکھی ہیں۔ ادارہ اب گھر سے لے کر لینڈ فل سائٹ تک کچرے کی نقل و حرکت کو ریئل ٹائم ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریک کرتا ہے۔
عوامی شکایات کے لیے ہیلپ لائن، کال سینٹر اور موبائل ایپ بھی 24 گھنٹے فعال ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے شہر میں نئی ٹرانسفر اسٹیشنز اور ایک مکمل انجنیئرڈ سینیٹری لینڈ فل سائٹ کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے۔



