
پی آئی اے فروخت: عارف حبیب کنسورشیم نے سب سے بڑی بولی دے کر نئی ملکیت حاصل کر لی
عارف حبیب کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (PIAC) کے 75 فیصد حصص حاصل کر لیے ہیں، جس کے لیے اس نے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دی۔ یہ نیلامی گزشتہ تقریباً بیس برسوں میں پاکستان کی پہلی بڑی نجکاری قرار دی جا رہی ہے۔
نیلامی کا عمل منگل کی صبح شروع ہوا جس میں پہلے سے اہل قرار دیے گئے اداروں میں لکی سیمنٹ، ایئر بلیو اور عارف حبیب کنسورشیم شامل تھے۔ پہلے مرحلے کے بعد ایئر بلیو نیلامی سے باہر ہو گئی کیونکہ اس کی بولی 26.5 ارب روپے تھی جو مقررہ ریفرنس پرائس سے کم تھی۔
لکی سیمنٹ کی ابتدائی بولی 101.5 ارب روپے تھی جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی دی۔
ویب سائیڈ کو مکمل دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں
لکی سیمنٹ کی درخواست پر 30 منٹ کے وقفے کے بعد نیلامی دوبارہ شروع ہوئی، جس میں ریفرنس پرائس 125 ارب روپے مقرر کی گئی۔ اگلے مرحلے میں لکی سیمنٹ نے اپنی بولی بڑھا کر 120.25 ارب روپے کر دی جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 121 ارب روپے کی بولی دی۔
نیلامی کے دوسرے مرحلے کا آغاز 115 ارب روپے کی بنیاد پر ہوا، جو پہلے مرحلے کی بلند ترین بولی تھی، اور ہر نئی بولی کے لیے کم از کم 25 کروڑ روپے کا اضافہ لازمی قرار دیا گیا۔
بالآخر، عارف حبیب کنسورشیم کی 135 ارب روپے کی بولی کامیاب رہی، جس کے ساتھ قومی ایئرلائن کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا۔
حکام کے مطابق، فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ 7.5 فیصد حکومت کو دیا جائے گا۔ مزید یہ کہ کامیاب کنسورشیم کو پی آئی اے میں حصص حاصل کرنے کے بعد اپنے گروپ میں دو مزید فریق شامل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
وفاقی حکومت کو اس سودے سے 10.2 ارب روپے موصول ہوں گے جبکہ باقی رقم پی آئی اے پر خرچ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، حکومت کو ہر سال تقریباً 35 ارب روپے کے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت متوقع ہے۔
وزیر خزانہ کا اظہارِ مسرت
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز کہا کہ بولی کا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا گیا، اور اس کامیابی کا کریڈٹ وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور ان کی ٹیم کو دیا۔
بولی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ تمام بولی دہندگان پاکستانی تھے، اور کہا کہ جیتنے والا گروپ چاہے کوئی بھی ہو، یہ معاہدہ ملک کے لیے مثبت ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس قومی پرچم بردار ایئرلائن کے کنٹرول کے لیے مقابلہ کر رہے تھے، اور اب اس ایئرلائن کا انتظام سرمایہ کاروں اور ملک کے تجربہ کار کاروباری رہنماؤں کے ہاتھ میں ہوگا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اس نجکاری کا بنیادی مقصد پی آئی اے کے مالی خسارے کو روکنا اور اسے بین الاقوامی فضائی منڈی میں دوبارہ مستحکم مقام دلانا ہے۔



