ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ٹی ڈی ار ایف کے زیرِ اہتمام ’’فوڈ ایگ 2025 نمائش کا دوسرا روز بھی غیر ملکی خریداروں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری اس ایونٹ میں مختلف زرعی و فوڈ سیکٹرز سے وابستہ کمپنیوں کے درمیان ہونے والے کاروباری معاہدوں کی مالیت 615 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
اس سال کی نمائش میں 23 سے زائد شعبوں کی نمائندگی کرنے والے 372 پاکستانی برآمد کنندگان شریک ہیں، جبکہ 80 ممالک سے 850 سے زیادہ بین الاقوامی خریدار اور کئی معروف عالمی برانڈز بھی شرکت کر رہے ہیں۔ یہ نمائش پاکستان کی زرعی اور فوڈ مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بن چکی ہے۔
ٹی ڈی اے پی کے چیف ایگزیکٹو فیض احمد اور سیکریٹری شیریار تاج نے روس، ملائیشیا، انڈونیشیا، کویت، ہانگ کانگ اور قازقستان کے وفود سے ملاقاتیں کیں اور تجارتی تعاون کے امکانات پر بات چیت کی۔ پہلے دو روز کے دوران 4,600 سے زائد بی ٹو بی ملاقاتیں ہوئیں جن میں چاول، سی فوڈ، کنفیکشنری، گوشت، اناج اور آئل سیڈز کے شعبوں میں نمایاں معاہدے طے پائے۔ خصوصاً پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان سی فوڈ کی برآمد کے حوالے سے اہم ڈیلز ہوئیں۔
نمائش کے دوران بین الاقوامی سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (SPS) تقاضوں پر خصوصی سیشنز بھی منعقد کیے گئے جن میں محکمہ تحفظِ نباتات، اینمل کوارنٹائن، وزارتِ قومی غذائی تحفظ، میرین فشریز، پاکستان حلال اتھارٹی اور پی ایس کیو سی اے سمیت کئی اداروں نے شرکت کی۔
پیشہ ور افراد اور برآمد کنندگان نے زیتون ویلیو چین میں مواقع، ملائیشیا کے لیے گوشت کی سپلائی چین کی بہتری، لاجسٹکس کے مسائل، ایکسپورٹ کریڈٹ سہولیات اور فشریز و ایکوا کلچر کی مسابقت سے متعلق سیشنز میں بھی بھرپور دلچسپی لی۔
علاوہ ازیں، تل، چاول، گوشت، بیکری مصنوعات، نمک، مکئی اور دیگر خوراکی و زرعی اشیا کی برآمد کے حوالے سے متعدد ایم او یوز اور تجارتی معاہدے بھی طے پائے۔ سعودی عرب، برطانیہ، چین، ویتنام، قازقستان، ایران اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک ان معاہدوں میں شامل ہیں۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ چین کو ہیٹ ٹریٹڈ میٹ کی برآمد کے لیے بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
ایف پی سی سی آئی اور مختلف تجارتی تنظیموں نے اس موقع پر اسکاٹ لینڈ، ویتنام، اٹلی، برطانیہ، انڈونیشیا، قازقستان، ماریشس، ارجنٹینا، پیرو، چلی اور ملائیشیا کے وفود کے ساتھ ملاقاتوں اور مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔
ٹی ڈی اے پی کی جانب سے غیر ملکی وفود کو مقامی صنعتوں اور کاروباری مراکز کے دورے بھی کروائے گئے تاکہ باہمی اعتماد میں اضافہ ہو اور نئی مارکیٹوں تک رسائی کے مواقع مزید مضبوط ہوں۔



