مون سون
مون سون

پاکستان نے آئندہ سال کی بارشوں سے پہلے ڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات کرنے کے لیے ایک جامع فریم ورک کی منظوری دے دی ہے۔ وزیرِاعظم نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی اُس حکمتِ عملی کی توثیق کر دی ہے جس کے تحت ہنگامی نوعیت کے سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے 240 روزہ ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق قومی منصوبہ تین حصوں—قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی—مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے اور آئندہ مون سون سے قبل زیادہ لچک دار انفراسٹرکچر تیار کیا جا سکے۔
قریب ترین ہدف میں گزشتہ برس کی بارشوں سے متاثرہ ڈھانچوں کی مرمت، بند نالوں اور نکاسی آب کی راہ داریوں کی صفائی، اور تمام فلڈ گیٹس کو بروقت فعال بنانا شامل ہے۔
مون سون
وسط مدتی یعنی ایک سے تین سالہ مرحلے میں شہری اور دیہی علاقوں کے موجودہ نکاسی آب نظام کو توسیع دینے اور بہتر کرنے پر کام کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس سے شہروں اور کمزور اضلاع کی شدید بارشوں اور اچانک سیلابوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی، جو حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھ گئے ہیں۔
طویل مدتی، یعنی چار سے پانچ سالہ، حکمتِ عملی کے تحت ملک بھر میں نئے موسمیاتی لچک والے ڈھانچے تعمیر کیے جائیں گے۔ دستاویزات میں واضح ہے کہ یہ منصوبے مستقبل میں موسمیاتی آفات کی شدت اور پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے تمام اقدامات کو مختلف عملیاتی کلسٹرز میں تقسیم کیا ہے، تاکہ وفاقی و صوبائی ادارے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ منصوبوں کو آگے بڑھا سکیں۔ دستاویزات کے مطابق تمام صوبوں کو منصوبے کے ہر مرحلے میں قریبی طور پر شامل رکھا جائے گا، تاکہ پچھلے برسوں کی طرح کوئی خلا پیدا نہ ہو۔
وزیرِاعظم نے مون سون 2026 کی تیاریوں کا جامع منصوبہ منظور کر لیا




