نسل
رول ماڈل قیادت: نئی نسل کی فکری اور عملی تربیت کی بنیاد
تحریر: اقبال عیسیٰ خان
مستقبل کی قیادت ہمیشہ اُن شخصیات سے پروان چڑھتی ہے جو اپنی بصیرت، کردار، اعلیٰ اخلاق، علمی قابلیت، پیشہ ورانہ کامیابیوں اور انسانیت سے جڑے جذبے کے ذریعے نئی نسل کو راستہ دکھاتی ہیں۔ حقیقی رول ماڈل وہ رہنما ہوتے ہیں جو اپنی اصلاح گھر سے شروع کرتے ہیں، اپنے خاندان میں بنیاد رکھتے ہیں، پھر اپنے گاؤں، ضلع، صوبے اور ملک تک مثبت تبدیلی کا دائرہ پھیلاتے ہیں۔ قیادت کوئی عہدہ نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، ذمہ داری، قربانی اور اخلاقی استقامت کا وہ سفر ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں کی سوچ اور ترجیحات کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔
دنیا میں بہت سے ایسے رہنما گزرے ہیں جنہوں نے اپنے کردار اور وژن سے معاشروں کو نئی سمت دی۔ ان میں نیلسن منڈیلا کی مثال نمایاں ہے جنہوں نے نسل پرستی کے خلاف جدوجہد میں 27 برس قید کاٹی، مگر ان کے دل میں نفرت کی بجائے انسان دوستی، معافی اور برداشت کے جذبات مضبوط رہے۔ رہائی کے بعد انہوں نے قومی مفاہمت کو بنیاد بنا کر بکھرے ہوئے معاشرے کو متحد کیا، جو حقیقی قیادت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
اسی طرح قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی، اخلاقی وقار اور قانون کی حکمرانی پر غیر متزلزل یقین نے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کو منظم کیا۔ ان کی جدوجہد کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ انہوں نے کبھی کردار اور اصولوں کا سودا نہیں کیا۔ ان کی یہی دیانت، وژن اور عوام سے سچائی آج بھی نوجوانوں کے لیے مثال ہے کہ قیادت اصولوں پر قائم ہو تو تاریخ اُس کے نقش قدم کو محفوظ رکھتی ہے۔
ملالہ یوسفزئی کی کہانی بھی نئی نسل کے لیے طاقت اور عزم کا استعارہ ہے۔ ایک کم عمر طالبہ ہونے کے باوجود انہوں نے علم کے حق کے لیے اپنی آواز بلند کی اور خطرات کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں۔ ان پر حملہ ہوا لیکن انہوں نے خوف کے بجائے ہمت کو چُنا۔ آج وہ دنیا بھر میں تعلیم کے فروغ کی علامت ہیں اور ثابت کرتی ہیں کہ عمر نہیں، حوصلہ قیادت کو جنم دیتا ہے۔
بین الاقوامی مثالوں کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر بھی بہت سی ایسی شخصیات موجود ہیں جو اپنے گاؤں اور ضلع سے ترقی کا آغاز کرتی ہیں۔ کچھ رہنما اپنے علاقے میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے، تعلیم کے مواقع بڑھانے، نوجوانوں کی رہنمائی، خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ جیسے اقدامات سے اپنے ماحول کو بدل دیتے ہیں۔ ان کی محنت، کردار اور دیانت داری کے اثرات خاندان سے شروع ہو کر کمیونٹی تک پھیلتے ہیں اور پھر وہی مثبت تبدیلی پورے معاشرے میں جڑیں مضبوط کرتی ہے۔
ایک سچا رول ماڈل صرف باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کرتا ہے کہ قیادت کا مقصد اختیار حاصل کرنا نہیں بلکہ اجتماعی فلاح کے لیے خود کو وقف کرنا ہے۔ نوجوان نسل ان رہنماؤں کے نقوشِ قدم پر چلتی ہے جو انہیں خود اعتمادی، راست گوئی، باہمی احترام، قانون پسندی اور کڑی محنت کا درس دیتے ہیں۔ وہ رہنما جو اپنی زندگی میں ہمدردی، ایمانداری اور انسانیت کو ترجیح دیتے ہیں، معاشرے کو ویسا ہی بنا دیتے ہیں جیسا وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔
آج کی نوجوان نسل کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ عہدوں یا شہرت میں نہیں بلکہ کردار میں مثالی قیادت تلاش کرے۔ وہ قیادت جو گھر سے اخلاق سکھائے، معاشرے میں انصاف کو ترجیح دے، اختلافِ رائے کے احترام کی روایت قائم کرے، اور اپنے کاموں سے ثابت کرے کہ ترقی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد سے ممکن ہے۔ ایسی رہنما شخصیات نہ صرف نئی نسل کا اعتماد بڑھاتی ہیں بلکہ انہیں مقصد، سمت اور کامیابی کا راستہ بھی دکھاتی ہیں۔
یہی رول ماڈل رہنما وقت گزرنے کے ساتھ معاشروں کا مقدر بدل دیتے ہیں، اور ان کی بنائی ہوئی روایتیں آنے والی صدیوں تک زندہ رہتی ہیں۔
رول ماڈل قیادت: نئی نسل کی فکری اور عملی تربیت کی بنیاد




