نیلامی مزید سست روی کا شکار
تحریر: جہانگیر ناصر | اشاعت: 7 جنوری 2026 | 2:38 دوپہر
پاکستان میں 5G اسپیکٹرم نیجیلامی کا شیڈول ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال مطلوبہ پالیسی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا گیا، حالانکہ دو ہفتے قبل وفاقی کابینہ اس کی منظوری دے چکی ہے۔
اس تاخیر کے باعث نیلامی کے عمل میں مزید پیش رفت رک گئی ہے، جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) حکومت کی باضابطہ ہدایات کی منتظر ہے۔
ذرائع نے پروپاکستانی کو بتایا کہ جب تک حکومت پالیسی ڈائریکٹو جاری نہیں کرتی، PTA نیلامی کے عمل کا آغاز نہیں کر سکتی۔ پالیسی ہدایت جاری ہونے کے بعد PTA انفارمیشن میمورنڈم شائع کرے گی، جس میں 5G نیلامی کے طریقہ کار، قواعد و ضوابط اور ریگولیٹری فریم ورک کی تفصیل شامل ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں
سستے اور ہم آہنگ موبائل فونز کے بغیر جلد بازی میں 5G متعارف کرانے کے خلاف ٹیلی کام کمپنیوں کی وارننگ
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کا ابتدائی منصوبہ تھا کہ 5G اسپیکٹرم نیلامی فروری کے وسط تک کرائی جائے، تاہم پالیسی ڈائریکٹو میں تاخیر کے باعث اب یہ نیلامی فروری کے آخر تک مؤخر ہونے کا امکان ہے۔
انفارمیشن میمورنڈم میں دستیاب اسپیکٹرم بینڈز، بولی لگانے کے طریقہ کار اور موبائل آپریٹرز کے لیے تعمیلی شرائط (Compliance Requirements) کی مکمل تفصیلات بھی شامل ہوں گی۔
اس وقت پاکستان میں 274 میگاہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے۔ PTA ذرائع کے مطابق آئندہ نیلامی میں چھ مختلف فریکوئنسی بینڈز میں مجموعی طور پر 600 میگاہرٹز اسپیکٹرم پیش کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ اندازہ ہے کہ مزید 300 میگاہرٹز اسپیکٹرم بھی موجودہ پول میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
نیلامی کے بعد موبائل آپریٹرز اپنے BTS ٹاورز پر نئی فریکوئنسی بینڈز کو فعال کریں گے۔ اسی طرح اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں بھی نئے اسپیکٹرم کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنے ڈیوائسز کو اپڈیٹ کریں گی۔
ذرائع کے مطابق PTA کے کنسلٹنٹ نے سفارش کی ہے کہ اسپیکٹرم کی قیمتیں کم رکھی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کمپنیاں نیلامی میں حصہ لے سکیں اور 5G کی تیز رفتار تنصیب ممکن ہو سکے۔
وزارتِ آئی ٹی کے حکام کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ نیلامی کے چھ سے سات ماہ کے اندر بڑے شہروں میں 5G سروسز کا آغاز کیا جائے، جس کا ابتدائی دائرہ کار بڑے شہری مراکز تک محدود ہو گا۔



