یونائیٹڈ ایئرلائنز کی ٹوکیو جانے والی پرواز کو ہفتے کے روز اس وقت ہنگامی طور پر واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ واپس لانا پڑا جب ٹیک آف کے دوران طیارے کے ایک انجن کی طاقت ختم ہوگئی، جس کے نتیجے میں رن وے کے قریب جھاڑیاں جل اٹھیں۔
یونائیٹڈ فلائٹ 803، جو ڈلس ایئرپورٹ سے جاپان کے ہانیڈا ایئرپورٹ جا رہی تھی، انجن میں خرابی کے بعد فوراً واپس موڑ دی گئی۔ واقعے کے بعد طیارہ ورجینیا کے علاقے ڈیل سٹی کے اوپر چکر لگاتا رہا اور ہنگامی لینڈنگ سے قبل ایندھن خارج (Fuel Dumping) کرتا دیکھا گیا، جس کی ویڈیو ایک مقامی شہری نے ریکارڈ کی۔
میٹروپولیٹن واشنگٹن ایئرپورٹس اتھارٹی کی ترجمان ایمیلی مکگی کے مطابق،
“آگ پر فوری طور پر قابو پالیا گیا اور پرواز تقریباً دوپہر 1:30 بجے بحفاظت ڈلس ایئرپورٹ پر لینڈ کر گئی، جہاں فائر ریسکیو ٹیموں نے طیارے کا معائنہ کیا۔”
یونائیٹڈ ایئرلائنز کے مطابق، طیارے میں سوار 275 مسافر اور 15 عملے کے ارکان مکمل طور پر محفوظ رہے اور کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ٹیک آف کے دوران انجن فیل ہونے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ بوئنگ 777 طیارے کے انجن کا کور الگ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے زمین پر آگ بھڑکی۔
ایئر ٹریفک کنٹرول کی آڈیو میں کنٹرولرز کو نہایت پرسکون مگر فوری انداز میں طیارے کی واپسی کو منظم کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جہاں ایندھن خارج کرنے اور رن وے کلیئر رکھنے کی ہدایات دی گئیں۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے متاثرہ مسافروں کی مدد کے لیے عارضی طور پر ڈلس ایئرپورٹ پر واقع اپنا یونائیٹڈ کلب لاؤنج بند کر دیا اور بتایا کہ مسافروں کو دوبارہ بک کیا جا رہا ہے، جبکہ پرواز کو بعد میں ایک دوسرے طیارے کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب عالمی فضائی سفر پہلے ہی مختلف حفاظتی خدشات، رن وے واقعات اور حالیہ حادثات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں ہر نئے واقعے پر ایوی ایشن انڈسٹری کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔



