پنجاب میں سردی کی لہر

پنجاب میں سردی کی لہر
صوبہ پنجاب اس وقت ایک سنگین عوامی صحت کے بحران سے دوچار ہے، جہاں شدید سردی کی لہر مسلسل خطے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اس پنجاب میں سردی کی لہر کے باعث سانس اور وائرل بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔
لاہور سمیت پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا رش بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سپر فلو، انفلوئنزا، وائرل انفیکشن، سینے کی بیماریوں، نمونیا اور تیز بخار کے مریضوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس اور راہداریوں میں مریضوں کا ہجوم معمول بن چکا ہے۔
پنجاب میں سردی کی لہر
لاہور کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی آمد و رفت پر کیے گئے جائزے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف چھ بڑے سرکاری اسپتالوں میں ایک ہزار سے زائد افراد سردی سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے رجوع کر چکے ہیں۔ میو اسپتال میں 300 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے، جناح اسپتال میں 250 سے زیادہ کیسز سامنے آئے، جبکہ سروسز اسپتال اور لاہور جنرل اسپتال میں ہر ایک میں 200 سے زائد مریضوں کا اندراج کیا گیا۔ بچوں کے اسپتال میں بھی 100 سے زائد بچے فلو اور سانس کی علامات کے ساتھ داخل کیے گئے۔
اسپتالوں کے مناظر انتہائی تشویشناک ہیں۔ مریض کمبل اوڑھے طویل قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ طبی عملہ شدید دباؤ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ میو اسپتال کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فرید کے مطابق مریضوں کی تعداد معمول کی سردیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مریض بزرگ افراد اور کم عمر بچے ہیں، جو سپر فلو، نمونیا، سینے کے انفیکشن، شدید کھانسی، سانس کی دشواری اور جسمانی درد میں مبتلا ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق پنجاب میں سردی کی لہر براہ راست ان بیماریوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ رات اور صبح کے وقت درجہ حرارت میں شدید کمی، فضائی آلودگی اور اسموگ کے باعث انسانی مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے، جس سے وائرس آسانی سے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سپر فلو تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کی علامات میں ناک بند ہونا، گلے میں درد، مسلسل کھانسی، تیز بخار، پٹھوں میں درد اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں نمونیا کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق سرد موسم میں وائرس زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں اور بند کمروں میں رہنے سے ان کا پھیلاؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد ابتدائی علامات کو نظرانداز کرتے ہیں، وہ بعد میں سنگین پیچیدگیوں کے ساتھ اسپتال پہنچتے ہیں۔
اسپتال انتظامیہ تسلیم کرتی ہے کہ اگرچہ پیشگی انتظامات کیے گئے تھے، تاہم مریضوں کی غیر معمولی تعداد نے وسائل کو محدود کر دیا ہے۔ بیڈز کی کمی، عملے پر دباؤ اور ایمرجنسی وارڈز میں رش معمول بن چکا ہے، جس کے باعث بعض مریضوں کا علاج راہداریوں میں کیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ہجوم والی جگہوں پر فیس ماسک کے استعمال، بار بار ہاتھ دھونے اور بیمار افراد سے فاصلہ رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں نے خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کو موسمی فلو کی ویکسین لگوانے کی سختی سے سفارش کی ہے۔
پنجاب میں سردی کی لہر
محکمہ موسمیات کے مطابق سردی کی یہ لہر آئندہ چند دنوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث سانس کی بیماریوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر درجہ حرارت کم رہا تو اسپتالوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پنجاب حکومت نے موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے اسکولوں کی تعطیلات میں توسیع کر دی ہے۔ جنرل کیڈرز ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مسعود شیخ کے مطابق یہ موسم بچوں اور بزرگوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اس لیے غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔
محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے بھر کے اسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور سردی سے متعلق بیماریوں کے لیے خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں تاکہ مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔صوبہ پنجاب اس وقت ایک سنگین عوامی صحت کے بحران سے دوچار ہے، جہاں شدید سردی کی لہر مسلسل خطے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اس پنجاب میں سردی کی لہر کے باعث سانس اور وائرل بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔
پنجاب میں سردی کی لہر
لاہور سمیت پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا رش بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق سپر فلو، انفلوئنزا، وائرل انفیکشن، سینے کی بیماریوں، نمونیا اور تیز بخار کے مریضوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس اور راہداریوں میں مریضوں کا ہجوم معمول بن چکا ہے۔
لاہور کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی آمد و رفت پر کیے گئے جائزے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف چھ بڑے سرکاری اسپتالوں میں ایک ہزار سے زائد افراد سردی سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے رجوع کر چکے ہیں۔ میو اسپتال میں 300 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے، جناح اسپتال میں 250 سے زیادہ کیسز سامنے آئے، جبکہ سروسز اسپتال اور لاہور جنرل اسپتال میں ہر ایک میں 200 سے زائد مریضوں کا اندراج کیا گیا۔ بچوں کے اسپتال میں بھی 100 سے زائد بچے فلو اور سانس کی علامات کے ساتھ داخل کیے گئے۔
اسپتالوں کے مناظر انتہائی تشویشناک ہیں۔ مریض کمبل اوڑھے طویل قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ طبی عملہ شدید دباؤ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ میو اسپتال کے سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر فرید کے مطابق مریضوں کی تعداد معمول کی سردیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مریض بزرگ افراد اور کم عمر بچے ہیں، جو سپر فلو، نمونیا، سینے کے انفیکشن، شدید کھانسی، سانس کی دشواری اور جسمانی درد میں مبتلا ہیں۔
پنجاب میں سردی کی لہر
ماہرین صحت کے مطابق پنجاب میں سردی کی لہر براہ راست ان بیماریوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ رات اور صبح کے وقت درجہ حرارت میں شدید کمی، فضائی آلودگی اور اسموگ کے باعث انسانی مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے، جس سے وائرس آسانی سے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سپر فلو تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کی علامات میں ناک بند ہونا، گلے میں درد، مسلسل کھانسی، تیز بخار، پٹھوں میں درد اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں نمونیا کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق سرد موسم میں وائرس زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں اور بند کمروں میں رہنے سے ان کا پھیلاؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد ابتدائی علامات کو نظرانداز کرتے ہیں، وہ بعد میں سنگین پیچیدگیوں کے ساتھ اسپتال پہنچتے ہیں۔
پنجاب میں سردی کی لہر
اسپتال انتظامیہ تسلیم کرتی ہے کہ اگرچہ پیشگی انتظامات کیے گئے تھے، تاہم مریضوں کی غیر معمولی تعداد نے وسائل کو محدود کر دیا ہے۔ بیڈز کی کمی، عملے پر دباؤ اور ایمرجنسی وارڈز میں رش معمول بن چکا ہے، جس کے باعث بعض مریضوں کا علاج راہداریوں میں کیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ہجوم والی جگہوں پر فیس ماسک کے استعمال، بار بار ہاتھ دھونے اور بیمار افراد سے فاصلہ رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں نے خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کو موسمی فلو کی ویکسین لگوانے کی سختی سے سفارش کی ہے۔
پنجاب میں سردی کی لہر
محکمہ موسمیات کے مطابق سردی کی یہ لہر آئندہ چند دنوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث سانس کی بیماریوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر درجہ حرارت کم رہا تو اسپتالوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پنجاب حکومت نے موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے اسکولوں کی تعطیلات میں توسیع کر دی ہے۔ جنرل کیڈرز ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مسعود شیخ کے مطابق یہ موسم بچوں اور بزرگوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اس لیے غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔
محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے بھر کے اسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور سردی سے متعلق بیماریوں کے لیے خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے جا چکے ہیں تاکہ مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔
پنجاب میں سردی کی لہر



