پی آئی اے کی بحالی

پی آئی اے کی بحالی
عالمی مالیاتی خبروں کے مطابق، پی آئی اے کی بحالی کے لیے نئی ملکیت رکھنے والا کنسورشیم، جس کی قیادت عارف حبیب کر رہا ہے، اب ایک اور پارٹنر کی تلاش میں ہے تاکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو دوبارہ فعال اور منافع بخش بنایا جا سکے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، نئے مالکان نے ممکنہ شراکت داروں کی نشاندہی کے لیے مکمل تحقیق اور جائزہ شروع کر دیا ہے، جس میں ایسے ادارے شامل ہیں جو مضبوط آپریشنل اور مالیاتی قابلیت کے حامل ہوں۔ اس مقصد کے لیے متعدد مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
پی آئی اے کی بحالی کے لیے حکمت عملی
نئے مالکان نے اعلان کیا ہے کہ وہ پی آئی اے کے فلیٹ کو موجودہ 18 جہازوں سے بڑھا کر 38 جہاز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایئرلائن کے آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے نئے اور ماہر عملے کی بھرتی کی جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے مالکوں کو ملازمین کو ایک سال کے اندر فارغ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس دوران موجودہ عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور انہیں ان کے نتائج کی بنیاد پر برقرار رکھا جائے گا۔
یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ پی آئی اے کا 75 فیصد حصہ 135 ارب روپے میں فروخت کیا تاکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی شرائط کو پورا کیا جا سکے۔ نئی ملکیت کے ڈھانچے میں عارف حبیب کارپوریشن اور فاطمہ فرٹیلائزر لمیٹڈ کا مجموعی حصہ 25 فیصد ہے، جبکہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کا حصہ بھی 25 فیصد ہے، اور باقی 25 فیصد حصہ AKD گروپ، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز کے درمیان مشترکہ طور پر رکھا گیا ہے۔
کنسورشیم کے پاس یہ اختیار بھی محفوظ ہے کہ وہ مستقبل میں حکومت کا باقی ماندہ حصہ ایک پریمیم قیمت پر خرید سکے۔ اس حکمت عملی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نئے مالکان نہ صرف ایئرلائن کی فوری بحالی کے لیے پرعزم ہیں بلکہ طویل مدتی سرمایہ کاری اور ترقی کے منصوبے بھی رکھتے ہیں۔
مقاصد اور توقعات
پی آئی اے کی بحالی کے تحت نئے مالکان کا بنیادی مقصد ایئرلائن کو دوبارہ مسافر دوست، مستحکم اور منافع بخش ادارہ بنانا ہے۔ جہازوں کی تعداد میں اضافے اور عملے کی تربیت کے ذریعے، ایئرلائن کی آپریشنل صلاحیت میں بہتری متوقع ہے، جس سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسافروں کا اعتماد بڑھایا جا سکتا ہے۔ کنسورشیم یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایئرلائن کے معیار اور سروس اسٹینڈرڈز بہتر سے بہتر ہوں، تاکہ پی آئی اے دوبارہ پاکستان کی ایک نمایاں اور قابل اعتماد ایئر لائن کے طور پر سامنے آئے۔
مالیاتی اور آپریشنل حوالے سے نئے مالکان کی یہ منصوبہ بندی اس بات کا بھی عندیہ دیتی ہے کہ پی آئی اے نہ صرف مسافروں کی سہولت کے لیے بہتر ہوگی بلکہ ملک کے لیے اقتصادی طور پر بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے جدید ٹیکنالوجی اور موثر حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ ایئرلائن عالمی معیار کے مطابق کام کرے۔
نتیجہ
مجموعی طور پر، پی آئی اے کی بحالی کے لیے نئے مالکان کی حکمت عملی میں جہازوں کی تعداد بڑھانا، ماہر عملے کی بھرتی، ملازمین کے حقوق کی حفاظت، اور مالیاتی شراکت داروں کی شمولیت شامل ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ایئرلائن کی موجودہ کارکردگی کو بہتر کریں گے بلکہ مستقبل میں اسے ایک مضبوط اور مستحکم ادارہ بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ پاکستان کی قومی ایئرلائن کی بحالی کے لیے یہ قدم ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اہم کردار ادا کرے گا، اور مسافروں کے لیے بہتر خدمات کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے لیے بھی مواقع فراہم کرے گا۔



