پی ایس ایل پلیئر آکشن

پی ایس ایل پلیئر آکشن
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) نے اپنے 11ویں ایڈیشن سے قبل ایک تاریخی اور انتہائی اہم فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لیگ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پی ایس ایل پلیئر آکشن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی پی ایس ایل نے گزشتہ سیزنز میں استعمال ہونے والے ڈرافٹ سسٹم سے باضابطہ طور پر ہٹنے کا عندیہ دے دیا ہے، جو اب تک کھلاڑیوں کے انتخاب کا بنیادی طریقہ رہا ہے۔
یہ فیصلہ پی ایس ایل انتظامیہ کے اندر کئی دنوں تک جاری رہنے والی مشاورت اور غور و فکر کے بعد سامنے آیا۔ ان مشاورتوں کے دوران تین مختلف آپشنز زیر غور رہے، جن میں روایتی ڈرافٹ سسٹم کو برقرار رکھنا، مکمل طور پر آکشن سسٹم اپنانا، یا دونوں کا ملا جلا ماڈل متعارف کرانا شامل تھا، جسے غیر رسمی طور پر “ڈراکشن” کہا جا رہا تھا۔ بالآخر پی سی بی نے واضح طور پر آکشن سسٹم کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کا اعلان کیا۔
پی ایس ایل پلیئر آکشن
ذرائع کے مطابق پی ایس ایل پلیئر آکشن کا تصور اس طرز پر ہوگا جس میں کھلاڑیوں کا انتخاب نیلامی کے ذریعے کیا جائے گا، بالکل اسی طرح جیسے دیگر بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں دیکھا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت فرنچائزز کھلاڑیوں پر بولی لگائیں گی، جس سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ کھلاڑیوں کی اصل مارکیٹ ویلیو بھی سامنے آ سکے گی۔
یہ اہم فیصلہ لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں منعقد ہونے والے پی ایس ایل گورننگ کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سامنے آیا، جس کی صدارت چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کی۔ اجلاس میں لیگ کی تمام آٹھ فرنچائزز کے نمائندگان کے علاوہ پی سی بی اور پی ایس ایل کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد آئندہ سیزن کے لیے ایک نئے اور توسیع شدہ فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے اجلاس کے دوران فرنچائز مالکان پر زور دیا کہ وہ کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔ ان کا مؤقف تھا کہ جیسے جیسے پی ایس ایل کی کمرشل ویلیو میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر سیالکوٹ اور حیدرآباد سے دو نئی فرنچائزز کے شامل ہونے کے بعد، اسی تناسب سے کھلاڑیوں کو بھی بہتر مالی معاوضہ ملنا چاہیے۔
پی ایس ایل پلیئر آکشن
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی شامل ہونے والی ٹیموں کو کھلاڑیوں کے انتخاب میں مکمل اور منصفانہ مواقع دیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرانی ٹیموں کے لیے کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے (ریٹینشن) کے معاملات قدرے پیچیدہ ہو گئے تھے، جنہیں متوازن کرنے کے لیے آکشن سسٹم کو ایک بہتر حل قرار دیا گیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ایس ایل ایک بڑے تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ پی ایس ایل 11 پہلی مرتبہ آٹھ ٹیموں کے ساتھ کھیلا جائے گا، جبکہ ٹورنامنٹ کے آغاز کی تاریخ 26 مارچ طے کر دی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں کھلاڑیوں کی ریٹینشن پالیسی، اسکواڈ رولز اور دیگر تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی، جس کے لیے ایک خصوصی ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔
پی ایس ایل پلیئر آکشن کے نفاذ کے ساتھ لیگ خود کو ایک “نئے دور” میں داخل کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں نہ صرف ٹیموں کی تشکیل کا طریقہ بدلے گا بلکہ کھلاڑیوں کی قدر و قیمت اور مسابقتی توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ شائقین کرکٹ کے لیے یہ تبدیلی پی ایس ایل کو مزید دلچسپ، متحرک اور عالمی معیار کے قریب لے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔
پی ایس ایل پلیئر آکشن



