پیٹرول کی قیمت میں کمی

پیٹرول کی قیمت میں کمی
حکومت کی جانب سے عوام کو مزید ریلیف دینے کی تیاری کی جا رہی ہے، کیونکہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکان ایک بار پھر ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ کمی متوقع ہے، جس سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے صارفین کو کچھ حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔ اس ممکنہ قیمت میں کمی کا حتمی فیصلہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
سرکاری اندازوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے 59 پیسے تک کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر کمی متوقع ہے۔ اسی طرح مٹی کے تیل (کیر وسین آئل) کی قیمت میں 1 روپے 82 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو اس کا براہِ راست فائدہ عام صارفین، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور صنعتی شعبے کو پہنچے گا۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی
یہ متوقع کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی نئے سال کے آغاز پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کر چکی ہے۔ یکم جنوری 2026 کو وفاقی حکومت نے سال کے پہلے پندرہ دنوں کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 28 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد پیٹرول کی قیمت 263 روپے 45 پیسے سے کم ہو کر 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، جس کے بعد نئی قیمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔
حکام کے مطابق تازہ ترین قیمتوں میں کمی کی تجویز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور ملکی معاشی اشاریوں کا جائزہ لینے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران واضح کمی دیکھی گئی ہے، جس کا اثر مقامی قیمتوں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، سرکاری نوٹیفکیشن وزیراعظم کی منظوری کے بغیر جاری نہیں کیا جائے گا۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان خاصا نمایاں رہا ہے۔ 11 جنوری کو بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت میں 2 ڈالر 74 سینٹ فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد قیمت 69.27 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 66.54 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرول پریمیم میں بھی 13 سینٹ فی بیرل کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 5.01 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ عالمی قیمتوں میں کمی کے علاوہ کسٹمز ڈیوٹی میں نرمی اور ایکسچینج ریٹ میں ایڈجسٹمنٹ نے بھی پیٹرول کی قیمت کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان عوامل کی وجہ سے ایکس ریفائنری سطح پر پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی، جبکہ کرنسی ایڈجسٹمنٹ کے باعث مزید 68 پیسے فی لیٹر کی کمی ممکن ہوئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر پیٹرول کی قیمت میں کمی کا یہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات ٹرانسپورٹ کرایوں، اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی، بجلی اور گیس کے بلوں سے پریشان ہیں، ایندھن کی قیمتوں میں کمی ایک خوش آئند قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
اب تمام نظریں وزیراعظم کی منظوری پر مرکوز ہیں، جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ اگر یہ کمی منظور ہو جاتی ہے تو آنے والے دنوں میں عوام کو مزید ریلیف ملنے کی امید کی جا سکتی ہے
پیٹرول کی قیمت میں کمی



