
اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے کینسر کے مریضوں کو ایک پانچ سالہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے کے تحت فی مریض تقریباً ایک کروڑ روپے (10 ملین روپے) مالیت کی مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔
وزارتِ قومی صحت نے جمعہ کے روز ایک ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی روش (Roche) کے ساتھ اس منصوبے کے لیے معاہدہ کیا۔
معاہدے کے تحت حکومتِ پاکستان فی مریض 10 لاکھ روپے ادا کرے گی جبکہ باقی 90 لاکھ روپے روش کمپنی برداشت کرے گی۔
دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت حامد یعقوب شیخ نے کہا کہ اس اقدام سے اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے کینسر کے مریض مستفید ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ شراکت داری پانچ سال تک جاری رہے گی اور اس دوران ہزاروں کینسر کے مریضوں کو علاج میں مدد فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت علاج کی سہولت پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں فراہم کی جائے گی، جہاں تینوں خطوں کے اہل مریض علاج کرا سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ بیماری کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ (13 ملین) پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں، جبکہ کینسر کے علاج پر پانچ سال میں فی مریض تقریباً 98 لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔
وزیر صحت کے مطابق اس پروگرام کے تحت پھیپھڑوں، جگر اور چھاتی کے کینسر میں مبتلا مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ بھی شامل ہے، جیسے صاف پینے کے پانی کی فراہمی۔
انہوں نے وزیرِاعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کینسر صرف مریض ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے، اور اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں مریضوں پر پڑنے والے مالی اور ذہنی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
ptnlive.comhttps://ptnlive.com/



